مہمند ایجنسی: چھ زندگیاں جو تباہ ہوئیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پشاور شہر کے دور دراز محلے کی ان پر پیچ گلیوں سے گزرتے میں سوچ رہی تھی کہ مہمند ایجنسی میں اپنے گاؤں کی کھلی فضاؤں کو چھوڑ کر ان تنگ گلیوں اور بہتی نالیوں والے پسماندہ محلے میں آ کر آباد ہونا کتنا مشکل ہو گا۔

جلد ہی مجھے اس سوال کا جواب مل گیا۔

تیرہ سالہ روبینہ نے اپنے چھوٹے سے گھر کے کچے پکے صحن میں کھڑے بھیگی آنکھوں سے اپنے گاؤں کو یاد کیا اور رو دیں۔ ’میرا گاؤں بہت بہتر اور خوبصورت تھا۔ ہمارا گھر بھی بڑا اور کھلا تھا۔ لیکن زندگی بچانے کے لیے ہمیں اس جگہ آ کر رہنا پڑا۔‘

روبینہ کے ایک کمرے کے مکان کے باہر دروازہ نہیں ہے بلکہ ایک پردہ ہے جسے اٹھاتے ہی میں ان کے صحن میں داخل ہو گئی۔ صحن کے ایک طرف لکڑی کی مدد سے بنایا گیا ایک باورچی خانہ تھا جس کے پاس روبینہ کی بیوہ بھابھی پلوشا زمین پر بیٹھی تھیں۔ دوسری جانب پردے سے ہی ڈھکا غسل خانہ تھا جس کے قریب چارپائی پر سرخ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ایک معذور خاتون ثمینہ بیٹھی تھیں جنہوں نے دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا۔ میں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو پتہ چلا کہ نہ صرف ان کی ایک زخمی ٹانگ کٹ چکی ہے بلکہ ان کا ایک بازو بھی زخموں سے چور ہے۔

ایک برس قبل جنگ زدہ علاقے مہمند ایجنسی سے روبینہ کے بوڑھے والدین، بہن، چھوٹا بھائی اور بیوہ بھابی نقل مکانی کر کے پشاور آئے تھے۔ ایسی کون سی مجبوری انہیں پشاور لے کر آئی اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ثمینہ کی عمر چوبیس سال ہے اور پشاور میں پناہ لینے سے پہلے گاؤں میں ان کے رشتے کے لیے بات چل رہی تھی

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ایک برس پہلے پاکستانی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان ایک جھڑپ کے دوران ایک نامعلوم سمت سےگولہ روبینہ کے گھر پر گرا۔ اس گولے نے نہ صرف پلوشا کے شوہر کی جان لے لی بلکہ بوڑھی ماں کا اکلوتا کمانے کا سہارا بھی چھین لیا۔ اس حملے میں روبینہ کا بڑا بھائی جان محمد ہلاک ہو گیا۔ پلوشا اور جان محمد کی شادی کو ابھی صرف ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ نے نئی نویلی دلہن کے خواب چکنا چور کر دیے۔

تئیس سالہ پلوشا کی آنکھوں میں اب خواب نہیں ہیں۔ اس عمر میں جبکہ ان کی زندگی کی طرح آنکھوں میں بھی شوخی اور رنگ نظر آنے چاہئیں، وہاں گہری اداسی کے ساتھ ایک سوال نمایاں تھا: میرا کیا قصور؟

پلوشا کہتی ہیں ’میں بہت خوش تھی اور ہماری زندگی محبت بھری زندگی تھی۔ میرا شوہر میرا عاشق تھا ۔۔۔ہماری شادی کے بعد ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے۔ جہاں میں جاتی تھی وہ میرے پیچھے پیچھے آتا تھا ۔۔۔ مجھے بہت اچھا شوہر ملا تھا۔‘

قبائلی روایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پلوشا کے ساس سسر نے جان محمد کے ہلاک ہونے کے بعد اس کی شادی اپنے چھوٹے بیٹے ناصر خان کے ساتھ طے کر دی ہے۔ ناصر خان کی عمر ابھی صرف دس برس ہے اور وہ گاؤں میں چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ جیسے ہی وہ کچھ رقم اکٹھی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تبھی اس کی شادی پلوشا کے ساتھ کر دی جائے گی۔

پلوشا کی شرم اور معصومیت نے اسے اتنی اجازت ہی نہیں دی کہ وہ میرے اس سوال کا جواب دے پاتی کہ کیا وہ اس شادی پر رضامند ہے؟

میں نے پلو شا سے پوچھا کہ یہ واقعہ کیسے ہوا تو قریب بیھٹی ایک ٹانگ سے محروم ثمینہ بولیں ’میری والدہ میرے ساتھ کھڑی تھیں اور میرا بھائی ریڈیو سن رہا تھا ۔۔۔ سہ پہر کا وقت تھا کہ گولہ آ گرا۔ میں اور میری والدہ دونوں ہی زخمی ہو گئے ۔۔۔ بڑا بھائی مارا گیا ۔۔۔ جتنے مال مویشی تھے سب مر گئے۔ مکان تباہ ہو گیا ۔۔۔ پڑوسی ہمیں زخمی حالت میں ہسپتال لے گئے اور ہمارے پاس پیسے بھی نہیں تھے۔۔۔گاؤں کے لوگوں نے چندہ جمع کر کے ہمارا ابتدائی علاج کروایا۔‘

ثمینہ کی عمر چوبیس سال ہے اور پشاور میں پناہ لینے سے پہلے گاؤں میں ان کے رشتے کے لیے بات چل رہی تھی۔ گاؤں چھوڑنے کے ساتھ ہی اس کی شادی کی امید نے بھی اس کا ساتھ چھوڈ دیا ہے۔

اپنے آبائی گاؤں کو یاد کرتے ہوے ثمینہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے بہت تکلیف برداشت کی ہے ۔۔۔ علاج کے دوران تین مرتبہ میری ٹانگ کو کاٹا گیا اور میرا ہاتھ صرف ایک جگہ سے فریکچر نہیں ہوا بلکہ چور چور ہو گیا ہے۔ چھ مہینے تک میں بستر سے اٹھ نہیں سکی یہاں تک کہ کروٹ بھی نہیں لے سکتی تھی ۔۔۔ میں اب معذور ہو گئی ہوں ۔۔۔ میری جوانی خاک میں مل گئی ہے۔ اب اس معذور سے کون شادی کرے گا؟‘

ثمینہ کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔ انہوں نے کہا ’ٹھیک تھی تو باہر گھومتی تھی، سہیلیوں کے ساتھ پانی بھرنے جاتے تھے۔گھر کا ہر کام کرتی تھی اور اب کچھ کرنے کے قابل نہیں رہی صرف بستر پر پڑی رہتی ہوں جیسے کوئی بے جان چیز ہو۔‘

جان محمد کی والدہ میرے لیے قہوا بنا کر لائیں اور ہمارے سامنے والی چارپائی پر بیٹھ گئیں۔ انہوں نے مجھے اپنے جسم پر لگے زخم دکھائے۔ پشاور کے کسی ہسپتال تک ان کی رسائی حملے کہ ایک سال بعد بھی ممکن نہیں ہو پائی۔

میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا دوسرا بیٹا بھی عمر میں بہت چھوٹا ہے لہٰذا گھر کیسے چلتا ہے؟

انہوں نے اپنے بوڑھے خاوند کی طرف اشارہ کرتے ہوا کہا ’یہ میرا بوڑھا خاوند ہے اور میرا ایک دس سالہ چھوٹا بیٹا ہے ۔۔۔ ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں رہا اور میری بیٹیاں میرے اردگرد بیٹھی ہیں۔ اپنے بیٹے کو سکول بھیجنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ شہر میں سکول والے کبھی سبز تو کبھی لال رنگ کے کپڑے پہننے کے لیے کہتے ہیں جو میرے بچے کے پاس نہیں ہیں ۔۔۔ میں یہ سب کہاں سے لوں؟ جو بیٹا ہمارا سہارا تھا ہمارا کمانے کا واحد ذریعہ تھا دلیر تھا وہ دنیا چھوڑ کر چلا گیا ہے۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ جان محمد کیا کرتے تھے؟

ماں جی نے جواب دیا ’میرا بیٹا کراچی میں مزدوری کرتا تھا۔ ہمارا تھوڑے پیسوں میں بھی بہت اچھا گزارا ہوتا تھا۔ ہم خوش تھے ۔۔۔ اب تو ہمارا کچھ بھی نہیں رہا۔‘

جان محمد کے والد دلاور خان سے بات کرنا چاہی تو بہت مختصراً انہوں نے کہا ’میں تو بجلی کا بل ادا کرنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا ہوں تو بیوی بیٹی کا علاج کروانا تو دور کی بات ہے۔ اللہ کے آسرے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور سختیاں برداشت کر رہے ہیں۔‘

قبائلی علاقوں کے رسم و رواج کے مطابق گاؤں کے لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں۔ چاہے مالی وسائل کسی بھی فرد کے کتنے ہی کمزور کیوں نا ہوں وہ کھبی تنہا نہیں ہوتا۔

اسی کمی کو پشاور میں محسوس کرنے والی جان محمد کی والدہ نے کہا ’ہم اپنے گاؤں میں بہت خوش تھے بہت زیادہ خوش تھے۔ ہمارے گاؤں میں لوگ عزت سے پیش آتے تھے۔ کھبی مردوں نے ہمیں گھور گھور کر نہیں دیکھا تھا جیسا کہ یہاں پشاور میں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنا گاؤں چھوڑنے کا بہت دکھ ہے۔ ہم یہاں ایک کمرے میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہم آزاد فضا میں سانس لیتے تھے، کھیتی باڑی کیا کرتے تھے ۔۔۔ مجھے میرے گاؤں کا ساگ بہت یاد آتا ہے۔‘

اپنے ہونے والے شوہر کے جوان ہونے کا انتظار کرنے والی پلوشا نے چلتے چلتے مجھے اس قرب کی ہلکی سی جھلک دکھائی جو بیوہ ہونے کے دکھ اور دس سالہ بچے میں اپنا شوہر تلاش کرتے اس پر بیت رہا ہے۔

’سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ میری اب کوئی شناخت نہیں ہے۔ نہ کسی کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہوں نہ کہیں جا سکتی ہوں۔ خاوند کے بغیر میں بالکل کچھ نہیں ہوں۔‘

ایک سال پہلے رونما ہونے والے اس واقعہ کے اثرات ہمیشہ کے لیے اس خاندان کی زندگیوں پر اپنی چھاپ چھوڑ گئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کے ایک گھر پر گرنے والے اس گولے کی تو خبر بھی نہیں بنی لیکن اس حادثے نے چھ زندگیوں کو تباہ کر دیا ہے۔

شورش زدہ قبائلی علاقوں میں اب تک اس طرح کے بہت سے افسوس ناک حادثے پیش آچکے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کی روزمرہ کی میڈیا کوریج میں اس طرح کے واقعات اپنی کبھی کوئی خاص جگہ نہیں بنا سکے۔

(مہمند کے اس خاندان نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کی تھی۔ اس لیے تمام نام فرضی ہیں)

اسی بارے میں