جماعت احمدیہ کی قبروں کی بے حرمتی کا مقدمہ درج

قبرستان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ قبرستان انیس سو چھہیتر سے موجود ہے اور اس میں انتیس قبریں ہیں

پنجاب کے ضلع لودھراں میں پولیس نے دنیاپور کے علاقے میں جماعت احمدیہ کے قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی کے واقعہ پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی رات کو پیش آیا ہے جبکہ اتوار کو اس واقعہ کی اطلاع ملی۔

جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ قبروں کی بے حرمتی کی گئی اور سات قبروں کے کتبے توڑ کر ان کو ویرانے میں پھینک دیا گیا۔

لودھراں کی ضلعی پولیس آفیسر یعنی ڈی پی او آغا یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ دنیاپور کے نواح میں واقع جماعت احمدیہ کے قبرستان میں چند قبروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

ڈی پی او آغا یوسف کے مطابق اس واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور ڈی ایس پی کی سربراہی میں ایک تفتیشی ٹیم اس واقعہ کی چھان بین کرے گی۔

پولیس اسٹیشن دنیا پور کے ایس ایچ او اکرم چٹھہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس واقعہ کی تفتیش شروع کردی ہے اور قبرستان سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے مطابق دنیاپور شہر میں یہ قبرستان انیس سو چھہیتر سے موجود ہے اور اس میں انتیس قبریں ہیں۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ قبروں کی بے حرمتی انتہائی انسانیت سوز واقعہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

جماعت احمدیہ کے مطابق انیس سو چواسی کے جاری کردہ امتیازی قوانین کے بعد سے اب تک انتیس قبروں کی بے حرمتی کے واقعات ہوچکے ہیں۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق سنہ انیس سو چوہتر میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدی فرقے کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا جبکہ اپریل انیس سو چوراسی میں جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اینٹی احمدی آرڈیننس کی رو سے احمدیوں کے لیے سرعام کلمہ پڑھنا، نماز ادا کرنا، سلام کرنا، عبادت کے لیے اکٹھے ہونا اور مسلمانوں جیسے نام رکھنا جرم قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں