کیا ایسے ہی ہوگا ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سلالہ چیک پوسٹ کے واقعہ کے بعد کیا پاکستان کی فوجی و سویلین اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ واقعی اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ اب مزید لچک نہیں دکھائی جائے گی، مزید نہیں جھکا جائے گا ، مزید ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی اور پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت اور مستقبل پر جامع نظرِ ثانی کی جائے گی۔

اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر اس پر یقین کرنے کے لئے کچھ وضاحتیں درکار ہیں۔

مثلاً ، کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے ساتھ گزشتہ دس برس کے دوران کئے گئے اعلانیہ و خفیہ سٹرٹیجک ، مالیاتی و سفارتی تعاون کے زبانی و تحریری سمجھوتوں اور سہولتوں کی تفصیلات منتخب پارلیمنٹ کے کھلے یا بند اجلاس میں پیش کرنا پسند کرے گی ؟

پاک افغان سرحد پر مقامی فوجی قیادت کو وقت و حالات کی نزاکت کے اعتبار سے فوری فیصلے کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے کیا اس کا اطلاق صرف افغان ، نیٹو اور امریکہ کی زمینی و فضائی کارروائی پر ہوگا یا ڈرون حملے بھی اس دائرہِ اختیار میں آتے ہیں ؟

اگر ڈرون حملوں کے لئے کوئی الگ پالیسی ہے تو کیا یہ امریکہ کی یکطرفہ پالیسی ہے یا اس میں پاکستان کی سویلین و فوجی اسٹیبلشمنٹ کی زبانی یا دستاویزی رضامندی بھی شامل ہے۔ اگر ایسا نہیں تو کیا آئندہ ڈرون حملوں کی فضائی و زمینی مزاحمت کی جائے گی ؟

پاکستان نے جس طرح کا اجتماعی ردِ عمل چوبیس فوجیوں کی ہلاکت پر دکھایا ہے۔ کیا ایسا ہی ردِ عمل اگلی بار چوبیس سویلینز کی ہلاکت پر بھی ظاہر کیا جائے گا ؟

کیا پاکستان خفیہ و اعلانیہ افغان پالیسی کی دو رنگی کا تاثر ختم کرنے کے لئے کھلے عام یہ بتانا چاہےگا کہ اصل میں وہ مغربی سرحد پر اپنے سٹریٹیجک و سیاسی مفادات کی روشنی میں کیسا افغانستان دیکھنا چاہتا ہے ؟

پاکستان میں توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لئے کیا پاکستان ایران گیس پائپ لائن پر امریکی تحفظات مسترد کرتے ہوئے فوری کام شروع کیا جائے گا ؟

اگر سالمیت و خود مختاری کے احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات پر اصرار کے نتیجے میں امریکہ پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی، دفاعی اور سفارتی امداد معطل کرتا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھاتا ہے تو پاکستان کے پاس دیگر کیا متبادلات ہیں؟ کیا اس ضمن میں کوئی عملی و حقیقت پسند خاکہ تیار ہے؟ اگر ہے تو کیا؟

کیا پاکستان کو یقین ہے کہ امریکہ کے عسکری ، اقتصادی و سیاسی اثرو نفوز سے آزاد ہونے کی کوشش میں جو ممکنہ وقتی و دورس مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ان سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے دوست بالخصوص سعودی عرب اور چین شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ؟

اگر امریکہ اور نیٹو قیادت پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر بلاخر اس طرح کی غیر مشروط معافی مانگ لیتے ہیں جیسی معافی کا جنرل کیانی اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے تقاضا کیا ہے تو کیا اس کے بعد بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پاکستان امریکہ تعلقات پر مجموعی نظرِ ثانی کا وعدہ برقرار رہے گا ؟

اگر یہ سب جزوی یا کلی طور پر ممکن نہیں تو پھر جو کچھ بھی دکھائی دے رہا ہے وہ مفاداتی سودے بازی ، چائے کی پیالی میں وقتی طوفان یا ٹوپی ڈرامے کے سوا کیا ہے ؟؟