شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے نائب سربراہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاہ محمود قریشی نے حال میں پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنی جماعت کا نائب سربراہ مقرر کردیا ہے۔

عمران خان نے نے یہ اعلان اتوار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ستائیس نومبر کو صوبہ سندھ کے شہر گوٹھکی میں ایک جلسہء عام میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

نیوز کانفرنس کے دوران جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ ان کی جماعت کو فنڈز کہاں سے مل رہے ہیں تو انہوں نے ناگواری کا اظہار کرتے سوال کرنے والے صحافی سے ہی پوچھ ڈالا کہ ’میری پارٹی کی فنڈنگ کدھر سے آسکتی ہے؟‘

اس پر صحافی نے کہا کہ یہ تو آپ ہی بتائیں گے۔ عمران خان نے جواب دیتے کہا کہ ’اگر تو یہ اشارہ ہورہا ہے کہ آئی ایس آئی ہمیں پیسے دے رہی ہے تو پھر میں چیف جسٹس صاحب سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے وہ ائر مارشل اصغر خان کا کیس سن لیں۔ جب وہ کیس سنا جائے گا تو آپ کو سب پتہ چل جائے گا کیونکہ آئی ایس آئی کو بولنا پڑے گا کہ کس کس کو پیسے دیے، تحریک انصاف بھی اس میں ہے یا نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جس طرح نواز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے آئی ایس آئی سے پینتیس لاکھ روپیہ لیا، تو اگر ہم پر آئی ایس آئی سے پییسے لینے کا الزام ثابت ہوگیا تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔‘

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے مخالفین کی طرف سے ان پر تواتر سے یہ الزام لگ رہا ہے کہ انہیں پاکستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمینٹ کی مدد حاصل ہے۔

وہ اس الزام کی سختی سے تردید تو کرتے ہیں لیکن وہ اس تاثر کو زائل کرنے کے بجائے بظاہر اور مضبوط کرتے ہیں کیوں کہ وہ سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات کی تو بات کرتے ہیں لیکن پارلیمینٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سامنے آنے والے فوجی افسران پر کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کی ذکر نہیں کرتے۔

اخباری کانفرنس کے دوران عمران خان نے مخالفین کے اعتراضات کے جواب میں اپنی جائیداد کی تفصیل بھی بتائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے سنہ انیس سو ستاسی میں بھارت کے خلاف میچ میں کامیابی اور پھر انیس سو بانوے میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے پر دو پلاٹس دیے تھے جو کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کو دے دیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار تک شوکت خانم اسپتال کے لیے انہوں نے ذاتی طور پر ساڑھے تین کروڑ روپے کے عطیات دیے جن میں یہ پلاٹس بھی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا ’پانچ سال میں ہسپتال میں بیٹھا، کبھی آج تک ایک روپیہ ہسپتال سے نہ میں نے لیا نہ کسی بورڈ آف گورنرز نے لیا۔ ان پر پی ایم ایل این کے جس نمائندے نے الزام لگایا ہے کہ وہ پیسے لیتے ہیں، بورڈ آف گورنرز کی طرف سے ان کو قانونی نوٹس جارہا ہے۔‘

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے پچھلے سال ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے تک ٹیکس ادا کیا اور اس سال صرف ساڑھے تین لاکھ روپے ٹیکس دیا۔

’یہ بات ٹھیک ہے، میری آمدنی بھی بڑھ گئی لیکن ٹیکس میں نے کم دیا۔ لیکن کیا میں ٹیکس چوری کرسکتا ہوں جب میں نے اپنے اثاثے ظاہر کیے ہوئے ہیں میرے بینک اکاؤنٹس سارے ان کے پاس ہیں، میں کیسے ٹیکس چوری کرسکتا ہوں؟’

انہوں نے ٹیکس کی ادائیگی میں کمی کی وجہ بتاتے کہا کہ ’میں نے کم از کم اس سال دو کروڑ روپے اضافی بنائے کرکٹ ورلڈ کپ کی وجہ سے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ اس کے اوپر پاکستان کا قانون ٹیکس نہیں لگاتا جو باہر سے پیسہ آتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ قانون انیس سو بانوے میں نواز شریف کی حکومت میں بنا تھا جس کے تحت بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ پر نہ تو ٹیکس عائد ہے اور نہ ہی پاکستانی حکام اس پر کوئی سوال کرسکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ یہ قانون ایک بہت بڑی ناانصافی ہے اور ان کے بقول یہ اس وقت کی حکومت نے ٹیکس چوری کرنے اور بیرون ملک اثاثے بنانے کے لیے نافذ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں سے پیسے حوالے کے ذریعے باہر بھیجتے تھے اور اس کالے دھن کو باہر سے منگواکر سفید کرتے تھے۔‘

اسی بارے میں