جنوبی سندھ کے کئي علاقے تاحال زیر آْب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سندھ کے کئی علاقوں میں سیلابی پانی ابھی بھی بھرا ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلابی بارشوں سے متاثرہ کئی علاقے تاحال زیر آْب ہیں۔

رواں سال اگست سے ستمبر تک صوبہ سندھ کو دوسرے سال بھی غیر معمولی بارشوں کا سامنا ہوا تھا۔

حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ان بارشوں سے نوے لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان کے خلائی اداے’ سپیس اینڈ اپر ایٹموس فیئر ریسرچ کمیشن‘ یعنی سپارکو کی تحقیق کے مطابق سندھ میں بارشوں سے تیرہ ہزار تین سو اسی سکوائر کلومیٹر رقبہ زیر آب آیا تھا جس میں سے چار ہزار سکوائر کلومیٹر رقبہ تاحال زیر آب ہے۔

سپارکو کے مطابق سندھ کا نشیبی ضلع بدین سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں بارہ سو سکوائر کلومیٹر سے زائد کا رقبہ زیر آب ہے۔ دوسرے نمبر پر سانگھڑ ہے جہاں گیارہ سو سکوائر کلومیٹر رقبے پر پانی موجود ہے جس کے بعد میرپورخاص کے 520 سکوائر کلومیٹر، ٹنڈوالہیار کے 178 اور شہید بینظیر آْباد کے 128 سکوائر کلومیٹر رقبے سے پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی ہے۔

سپارکو کے مطابق سندھ میں زمین کی سطح ہموار ہے اس لیے پانی کی نکاسی کی رفتار کم ہے اور زیادہ تر پانی کی نکاسی کا ذریعہ ایل بی او ڈی سیم نالا ہے۔ نکاسی کی رفتار کم ہونے کے باعث ہی ابھی تک ایک بڑا رقبہ زیر آب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی اور بخارات میں تبدیل ہونے کے بعد نمکیات رہ جائیں گے جس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی اور متاثرین کی بحالی کی صدر آصف علی زرداری خود نگرانی کر رہے ہیں۔ صدر زرداری کراچی کے ہر دورے کے موقع پر متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے ویڈیو کانفرنس کرتے ہیں جس میں ان سے پانی کی نکاسی کی صورتحال معلوم کی جاتی ہے۔ ہر بار پانی کی فوری نکاسی کی ہدایات جاری ہوتی ہیں۔

صوبائی محکمہ آفات اور بحالی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی پونے آٹھ لاکھ متاثرین کیمپوں میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی کثیر تعداد اپنے گھروں کو واپس جا چکی ہے۔ دوسری جانب بدین، میرپورخاص اور سانگھڑ میں ابھی تک متاثرین کی ایک بڑی تعداد خیموں میں موجود ہے۔ ان لوگوں کو سرکاری کیمپوں میں جگہ نہیں مل سکی تھی جس کے بعد انہوں نے سڑکوں کے کنارے پر پڑاو ڈال دیا تھا۔

دسمبر کے ساتھ اندرون سندھ سردیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ متاثرین کی بحالی کے لیے سرگرم غیر سرکاری ادارے’ایسوسی ایشن فار واٹر اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ رینویئبل انرجی‘ کے اہلکار علی اکبر راہموں کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے موسم مزید مشکلات لایا ہے۔

ان کے مطابق متاثرین نے گرمیوں میں تو راتیں کھلے آسمان کے نیچے گزار لیں مگر سرد راتوں کے مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس گرم کپڑوں اور کمبلوں موجود نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ سرکاری اور بڑے غیر سرکاری اداروں کی توجہ اور دلچسپی میں کم نظر آ رہی ہے جس سے آنے والے دنوں میں کسی حادثہ کا خطرہ بڑہ جاتا ہے۔

اسی بارے میں