’صدر زرداری کے بارے میں افواہیں غلط ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر پروگرام کے تحت اپنے بچوں سے ملنے اور طبی معائنے کے لیے دبئی گئے ہیں: فرحت اللہ بابر

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ صدرِ پاکستان طبی معائنے کے لیے دبئی گئے ہیں اور انہوں نے صدر کی سرگرمیوں کے بارے میں بعض ذرائع ابلاع کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں کو غلط قرار دیا ہے۔

بدھ کی صبح جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صدرِ پاکستان پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت اپنے بچوں سے ملنے اور طبی معائنے کے لیے دبئی گئے ہیں۔

صدرِ پاکستان عارضۂ قلب کی وجہ سے اپنے ذاتی معالج کے مشورے کے بعد منگل کی شام دبئی روانہ ہوگئے۔ صدر کے ہمراہ ان کا محدود ذاتی عملہ بھی ان کے ساتھ ہے۔

صدر زرداری کے ذاتی معالج کرنل سلمان کے مطابق تجویز کردہ طبی ٹیسٹ معمول کے مطابق ہیں اور یہ قلب اور شریانوں سے تعلق رکھنے والی کیفیت کے بارے میں ہیں جن کی تشخیص اس سے قبل ہوئی تھی۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے برعکس صدر زرداری علاج یا طبی معائنے کے لیے کسی ہسپتال نہیں گئے بلکہ انھوں نے منگل کی شام پہلے چیئرمین سینٹ فاروق حمید نائک، بعد میں وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ فرحت اللہ بابر نے صدر کی دبئی روانگی کے بارے میں جو خبر جاری کی تھی اس کا متن معمول سے ہٹ کر محسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہی مقامی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

ان قیاس آرائیوں کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ صدر کی دبئی روانگی سے قبل چیئرمین سینیٹ جو صدر کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر ہوتے ہیں، ان سے اور وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کی خبریں بھی صدارتی ترجمان نے جاری کی ہیں۔

حالانکہ ماضی میں صدر کی بیرون ملک روانگی سے قبل ان کی اس طرح کی مصروفیات کے بارے میں خبریں یا تو مخفی رکھی جاتی ہیں یا پھر اس بارے میں بہت ہی کم بتایا جاتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری کے خلاف مختلف ذرائع سے میڈیا کے ایک حصے میں مسلسل خبریں نشر یا شائع ہو رہی ہیں کہ صدر آصف علی زرداری مستعفی ہونے والے ہیں اور شاید واپس وطن نہیں آئیں گے۔

لیکن صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے ’قیاس آرائی، خیالی اور غیر درست‘ قرار دیا ہے۔

حالانکہ ماضی میں فرحت اللہ بابر، صدر سے منسوب کسی خبر کی تردید کے متن میں ’من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹی‘ خبروں جیسے الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعظم گیلانی سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر زرادری اپنے بچوں کے اصرار پر دبئی گئے ہیں

پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر زرداری پہلے سے موجود عارضہ قلب سے متعلق علامات کے بعد دبئی گئے ہیں۔

بیان کے مطابق دبئی میں ابتدائی میڈیکل ٹیسٹ کیے جانے پر ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔

’ڈاکٹروں نے ابھی تشخیص کرنی ہے کہ آیا صدر کی طبعیت پہلے سے زیرِ استعمال ادویات کے ناموافق ردعمل کے نتیجے میں خراب ہوئی ہے یا ان کو پہلے سے لاحق عارضہ قلب کی وجہ سے ہوئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ابھی ڈاکٹروں کی زیر نگرانی رہیں گے اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر ہی واپس وطن آ کر اپنی معمول کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

ایک دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین اور جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم گیلانی کو فون کر کے صدر کی صحت کے متعلق دریافت کیا۔

اسی بارے میں