’نیٹو سپلائی کے ڈرائیور مشکلات سے دوچار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پاک افغان سرحد چمن پر گزشتہ دو ہفتوں سے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سپلائی معطل ہونے کی وجہ سے چمن کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں پانچ سو سے زیادہ آئل ٹینکرز اور کنٹینرز رکے ہوئے ہیں۔

سپلائی معطل ہونے کے باعث سینکڑوں ڈرائیوروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکرز اور کنٹینرز کو واپس کراچی بھیجا جائے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق گذشتہ بارہ دنوں سے افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی بند ہونے کے بعد سینکڑوں ڈرائیور اور کنڈیکٹرز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید سردی اور اخراجات کے لیے رقم ختم ہونے کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔

کوئٹہ میں ایک ڈرائیور نبی شاہ نے بتایا کہ ان کے گھر والے بیمار ہیں اور صبح بھی گھر والوں کا فون آیا کہ آپ گھرآجائیں لیکن کنٹینر کا مالک مجھے گھر جانے نہیں دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ آپ گاڑی کے پاس رہیں۔

خیال رہے کہ چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوجی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد حکومت نے احتجاجاً پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی فوری بند کی دی تھی۔

پابندی کی وجہ سے افغانستان سے واپس پاکستان میں داخل ہونے والے نیٹو ٹینکرز کے ڈرائیور بھی پریشان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مشکلات بتاتے ہوئے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور ظفرخان کا کہنا ہے کہ وہ بارہ دنوں سے یہاں کھڑے ہیں۔

’شدید سردی میں وہ رات کو سو نہیں سکتے ہیں اور اب توان کے پاس کھانے پینے کے لیے رقم بھی نہیں۔‘

جب ان سے پوچھاگیا کہ وہ یہ خطرناک کام کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’پنجاب میں اکثر کارخانے بجلی اور گیس کی مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث بند ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ خطرناک اور مشکل کام کرنے پر مجبور ہیں۔‘

ایک دوسرے ڈرائیور سلیم خان نے کہا کہ’ اس بار انہیں افغانستان جانے دیا جائے اور آئندہ نیٹو سپلائی کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جائےکیونکہ پاکستان افغانستان میں نیٹوافواج کی اتنی خدمت کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود نیٹو الزامات لگاتا ہے کہ پاکستان سے طالبان دہشت گردی کے لیے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔‘

دوسری جانب صوبائی حکومت نے نیٹو کنٹینرز اور آئل ٹینکرز کی نگرانی سخت کر دی ہے اور ایف سی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے میں واقع نیٹو ٹرمینلز میں لوگوں کی آمدو رفت پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

اسی بارے میں