’ایوان صدر کئی اطراف سے دباؤ کا شکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں میں پسِ پردہ کچھ ایسی سرگرمیاں محسوس ہوتی ہیں جس سے پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال پیدا ہوسکتا ہے۔

بظاہر نظر نہ آنے والی اِن درپردہ سرگرمیوں کو جھانکنے والے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا اقتدار کی سازشوں کا کھیل لگتا ہے جس سے جمہوری نظام کو سخت خطرات محسوس ہوتے ہیں۔

در پردہ اقتدار کے ایوانوں کے اہم کھلاڑیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں جب صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر سے بات ہوئی تو وہ واضح طور پر کچھ بتانے سے توگریزاں نظر آئے۔

لیکن ان کی باتوں سے صاف صاف محسوس ہوا کہ ’حالات اچھے نہیں ہیں۔‘ تاہم انہوں نے اس تاثر سے اتفاق کیا کہ ایوان صدر پر کئی اطراف سے دباؤ بڑھ رہا ہے اور اب کی بار ماضی کی نسبت صورتحال نہایت پیچیدہ ہے۔

جس میں متنازعہ میمو کے معاملے کی میاں نواز شریف کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت، پارلیمان کو متنازعہ میمو کی تحقیقات کرنے میں مشکلات، ذوالفقار مرزا کا متحدہ کے خلاف کارروائی پر پارٹی قیادت سے اختلافات اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے جوہری پروگرام کے صدر کی وجہ سے غیر محفوظ ہونے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی خرابیِ صحت کی بنا پر اچانک دبئی روانگی کے بعد بدھ کو صدر کے صاحبزادے اور حکمران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے تفصیلی ملاقات بھی کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اس ملاقات میں سندھی ٹوپی پہن رکھی تھی اور عام طور پر وہ سندھی ٹوپی پہننے سےگریز کرتے ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ جب ان کے والد خرابی صحت کی وجہ سے دبئی میں طبی معائنہ کرا رہے ہیں ایسے میں بلاول بھٹو پاکستان میں سیاسی امور نمٹا رہے ہیں۔

وزیر اعظم کہتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری ابھی مکمل صحتیابی تک دبئی میں ڈاکٹروں کی زیر نگرانی رہیں گے۔

ایک اہم بات یہ بھی وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں بتائی گئی ہے کہ ابھی اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ صدر کی طبیعت دوائی کھانے سے بگڑی یا پہلے سے جو انہیں عارضہ قلب لاحق ہے اس کی وجہ سے خراب ہوئی۔

صدر آصف علی زرداری کی طبی معائنے کے لیے اچانک دبئی روانگی کے بعد بعض مقامی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیوں کا ایک ‘فلڈ گیٹ’ کھل گیا ہے۔

کچھ مقامی ٹی وی چینل تو صدر کے مستعفی ہونے اور ان کے واپس وطن نہ لوٹنے کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔

لیکن صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایسی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صدر استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی بیرون ملک زیادہ قیام کریں گے۔

ان کے بقول صدر مملکت جلد صحتیابی کے بعد واپس وطن آئیں گے اور ہر قسم کے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

ادھر صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور پیٹرولیم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کو دبئی کے ہسپتال کے ‘آئی سی یو’ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

البتہ ان کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ تاکہ وہ عیادت کرنے والوں سے دور رہیں اور آئندہ چار پانچ روز میں صدر آصف علی زرداری واپس پاکستان پہنچ جائیں گے۔