امریکہ سے کیے گئے تمام معاہدوں کی تفصیلات طلب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی فوجیوں کو جوابی کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے: وزیر اعظم

پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی نے حکومت پاکستان سے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون کے تمام تحریری اور زبانی معاہدوں اور ہر قسم کی یقین دہانیوں کے بارے میں تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

یہ بات کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی اور کہا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس تیرہ دسمبر کو ہوگا جس میں اس بارے میں وزارت خارجہ اور دفاع سے کہا گیا ہے کہ وہ کمیٹی کو بریف کریں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن سمیت اکثر اراکین شریک ہوئے اور آف کیمرہ بریفنگ کے دوران میاں رضا ربانی کے ہمراہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک موجود رہے۔

جماعت اسلامی کے رکن پروفیسر خورشید ناسازی طبیعت کی وجہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور ان کی نمائندگی پروفیسر ابراہیم نے کی۔

میاں رضا ربانی نے بتایا کہ جمعرات کے اجلاس کا دو نکاتی ایجنڈے تھا جس میں چھبیس نومبر کے نیٹو حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون کا از سر نو جائزہ لینے اور نئے طریقہ کار کے لیے سفارشات مرتب کرنا اور متنازع میمو کی تحقیقات کا طریقہ کار وضح کرنا شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ کمیٹی کی کارروائی آئینی ترامیم اتفاق رائے سے طے کرنے کے انداز میں چلائی جائے گی اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کریں گے جو منظوری کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں رکھی جائیں گی۔

میاں رضا ربانی نے بتایا کہ کمیٹی چاہتی ہے کہ نیٹو اور امریکہ سے فوجی اور سیاسی تعاون کے جو بھی معاہدے اور یقین دہانیاں ماضی میں کی گئی ہیں، ان کی تفصیل پیش کی جائے تاکہ ان کی روشنی میں سفارشات مرتب کی جائیں۔

کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی شریک ہوئے تھے اور انہوں نے کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ وہ سفارشات حکومت کو پیش کرے تاکہ حکومت پارلیمان کی اتفاق رائے سے نئی پالیسی مرتب کرے۔

واضح رہے کہ گزشتہ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن میجر جنرل اشفاق ندیم نے کمیٹی کو نیٹو حملے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی تھی اور کہا تھا کہ یہ حملہ غلطی سے نہیں ہوا۔

اُس اجلاس کے بعد وزیراعظم کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم نے فوجی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ قومی سلامتی اور ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری جوابی کارروائی کریں۔

یاد رہے کہ میجر جنرل اشفاق ندیم نے اس سے پہلے سینیئر صحافیوں اور مقامی ٹی وی چینلز کے اینکرز پرسنز کو بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستانی فوج امریکہ یا نیٹو سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

نیٹو حملے کے بعد پاکستان کی حکومت نے پانچ دسمبر کو جرمنی کے شہر بون میں افغانستان میں قیام امن کے لیے ہونے والی عالمی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا، نیٹو کی سپلائی معطل کردی اور امریکہ کو شمسی ائربیس پندرہ روز میں خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں