’سندھ کےصحافی محکمۂ تعلیم کے ملازم‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کے تمام ہی اضلاع میں صحافت سے وابستہ اکثر افراد محکمۂ تعلیم کے ملازم ہیں، جو سرکاری ملازمین کے قوانین کے مطابق نجی ملازمت نہیں کرسکتے۔

صوبائی وزیرِتعلیم پیر مظہرالحق نے ایسے تین سو باون اساتذہ کے نام جاری کیے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انہوں نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے سربراہان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اداروں سے تمام سرکاری ملازمین کو نکال کر ملک اور عوام دوست ہونے کا ثبوت دیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس فہرست میں اردو اور انگریزی کے ساتھ سندھی زبان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں، جن میں سے کئی ضلعی رپورٹر ہیں۔

کراچی سے لے کر کشمور تک صحافت سے وابستہ یہ افراد محکمۂ تعلیم کے مطابق پرائمری، سیکنڈری اور جونیئر استاد، کمپیوٹر آپریٹر، نائب قاصد اور چوکیدار ہیں۔

سندھ میں اساتذہ سماجی اور ادبی سرگرمیوں میں زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور اپنا اثر رسوخ دکھانے کے لیے وہ صحافت کی مدد حاصل کرتے رہے ہیں۔

اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے جب کبھی مطالبات کے لیے تحریک شروع کی جاتی ہے تو میڈیا انہیں موثر کوریج دیتا ہے، محکمۂ تعلیم کا خیال ہے کہ اس میں صحافیوں کا اہم کردار ہوتا ہے، جنہیں محکمہ گھوسٹ اساتذہ قرار دیتا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہرالحق کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا تاکہ ایسے گھوسٹ اور فرائض میں غفلت برتنے والے اساتذہ کے خلاف کارروائی کرکے ان کو فارغ کیا جائے۔

سینیئر وزیر نے کہا کہ یہ عناصر کالی بھیڑوں کی مانند ہیں جو صحافیوں کی صفوں میں گھس کر ایک طرف پیشہ ور صحافیوں کی حق تلفی کرتے ہیں اور دوسری جانب وہ اپنی ملازمت سے غیر حاضر ہو کر ملک و قوم کو نقصان دے رہے ہیں۔

پاکستان میں پچھلے چند سالوں میں الیکٹرانک چینلز کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی ہے جس سے صحافیوں کی بھی ایک بڑی کھیپ متعارف ہوئی۔

پھچلے دنوں آغا خان یونیورسٹی نے صوبے میں تعلیم کے معیار پر ایک تحقیق کی ہے، جس کے مطابق سندھ کے ستر فیصد پرائمری سکولوں میں طلباء کو تمام دن میں صرف پندرہ منٹ پڑھایا جاتا ہے۔

آغا خان کے شعبے سٹرنتھنگ ٹیچر ایجوکیشن پاکستان نے کینیڈا کے ترقیاتی ادارے سیڈا کی معاونت سے یہ تحقیق کی ہے جس کے لیے صوبہ سندھ کے پانچ سے زائد اضلاع کا انتخاب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں