نیٹو کنٹینرز کو بلوچستان سے نکالنے کے احکامات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شدت پسند بلوچستان میں رکے ہوئے نیٹو کا کنٹینرز اور ٹینکروں کو نشانہ بنا رہے ہیں

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب محمداسلم رئیسانی نےصوبے کے مختلف علاقوں میں رکے ہوئے نیٹو کے کنٹینرز اورآئل ٹینکرز کوفوری ان علاقوں کوروانہ کرنے کی ہدایت کی ہے جہاں سے وہ آئے تھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی جمعہ کی شام کو صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی سے کہا ہے کہ کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں سے افغانستان میں نیٹوافواج کے لیے تیل اور دیگر فوجی سازو سامان لےجانے والے آئل ٹینکروں اورکنٹینروں کو واپس ان علاقوں کو بجھوانے کے لیے اقدامات کریں جہاں سے وہ آئے تھے۔

صوبائی حکومت نے یہ کنٹینرز اور آئل ٹینکرز چھبیس نومبر کو نیٹوافواج کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمندایجنسی میں پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی دفاعی کمیٹی کے حکم پر کوئٹہ، چمن، نصیرآباد اور صوبے کے دیگر مقامات پر رکوائے تھے۔

نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کوئٹہ کے نواحی علاقے خروٹ آباد میں واقع نیٹو ٹینکرز کے ایک ٹرمینل پر دو راکٹ فائر کیے تھے جس کے نتیجے میں چوبیس نیٹوٹینکرز تیل سمیت جل گئے۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

جبکہ واقعہ سے ایک روز قبل مذکورہ ٹرمینل میں موجود ٹینکرز کے بعض ڈرائیوروں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ انہیں افغانستان جانے دیا جائے اور اگرافغانستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے تو پھرانہیں واپس کراچی اور پنڈی روانہ کیا جائے جہاں سے انہوں نے تیل اور دیگرسامان لوڈ کیا تھا۔

تاہم گذشتہ رات کے واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نےاب کہا ہے کہ نیٹوکے کنٹینرز اورآئل ٹینکرز کا صوبے کے مختلف مقامات پر مذید روکنا عوام کے جان ومال کےلئے شدید خطرہ ہے اور کسی بھی وقت کوئی خطرناک واقعہ وقوعہ پذیر ہوسکتا ہے لہٰذا انہیں جلد از جلد واپس بھجوانے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔