’عدلیہ کی توجہ سیاسی مقدموں پر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت کا زیادہ وقت روزانہ کی بنیاد پر دائر ہونے والے سیاسی مقدمات پر صرف ہو جاتا ہے: زہرہ یوسف

پاکستان میں انسانی حقوق کی ملک گیر تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف نے کہا ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ سیاسی مقدموں کو انسانی حقوق سے متعلق مقدمات پر فوقیت دے رہی ہے جو ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب کرنے میں ایک اہم عنصر ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بی بی سی اردو سروس کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے انسانی حقوق کے بارے میں کئی مقدمات زیر التوا ہیں لیکن عدالت کا زیادہ وقت روزانہ کی بنیاد پر دائر ہونے والے سیاسی مقدمات پر صرف ہو جاتا ہے۔

زہرہ یوسف نے کہا: ’جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے تو لگتا ہے کہ حکومت اور عدلیہ کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ان کی ترجیح روزانہ تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال ہے۔ اس صورت میں انسانی حقوق کے معاملات مکمل طور پر نظرانداز ہو رہے ہیں اور ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔‘

زہرہ یوسف نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن نے چار برس قبل بلوچستان میں گمشدگیوں اور ہلاکتوں کے بارے میں ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا جو مختلف کمیشنوں کے سپرد ہوتا رہا اور ابھی تک زیر التوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی سیاسی صورتحال اور سیاسی عدم استحکام کے باعث انسانی حقوق کے معاملات حکومتی سطح پر بھی نظر انداز ہورہے ہیں۔’اس صورت میں کچھ ایشوز ہیں جنہیں عدلیہ کو اہمیت دینا چاہئے۔ خاص طور پر لاپتہ افراد کا معاملہ ہے جن کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔‘

زہرہ یوسف نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ایبٹ آباد کمیشن کی سربراہی سنبھالنے کے بعد وہ لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے اس معاملے کو زیادہ وقت نہیں دے پا رہے ہیں اس لیے یہ کمیشن از سر نو تشکیل پانا چاہیئے۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ ان کا ادارہ انسانی حقوق کے عالمی دن کو بلوچستان کے عوام کے نام سے منا رہا ہے۔

زہرہ یوسف نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں اور عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کر کے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کر کے انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔