کراچی میں بم دھماکہ، تین رینجرز ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گلستان جوہر میں صفورا چونگی کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے۔

کراچی شرقی کے ڈپٹی کمشنر قاضی جان محمد کے مطابق رینجرز کے تین اہلکار ہلاک چار زخمی ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ دھماکے سے رینجرز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

کراچی میں رینجرز کے ترجمان کرنل شفیق نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بم دھماکہ کراچی میں پیر کی شب اور منگل کی صبح ہونے والے دونوں بم دھماکوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خصوصیت سے کالے پُل پر یومِ عاشور کو ہونے والے دھماکے اور گلستانِ جوہر میں ہونے والے دھماکے کے درمیان خاصی مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ اُس میں بھی مٹی کے اندر دھماکہ خیز مواد چھپایا گیا تھا اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

کرنل شفیق کا کہنا تھا کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول دھماکہ تھا تاہم ابھی مکمل یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں دو سے تین کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ بم سڑک کے کنارے اس جگہ نصب کیا گیا تھا جہاں رینجرز کی گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی شدت پسند تنظیم کی ہو سکتی ہیں کیونکہ اسی نوعیت کے دھماکے نو اور دس محرم کو بھی ہو چکے ہیں۔

بم میں چھرے استعمال کیے گئے ہیں جن کے نشانات گاڑیوں اور ارد گرد کی چیزوں پر موجود ہیں۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اس سے پہلے چھ دسمبر کو دس محرم کے موقع پر کراچی کے علاقے کالا پل پر ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں کم سے کم دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں