’خطاب سے پہلے محفل موسیقی کی دعوت‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف سندھ کے شہر لاڑکانہ میں سینچر کو ایک جلسے سے خطاب کریں گے، جلا وطنی کے بعد نواز شریف کا لاڑکانہ میں یہ پہلا جلسہ ہو گا۔

سندھ کے شہر لاڑکانہ کے سٹیشن روڈ پر ایک کیمپ موجود ہے، جہاں سے لوگوں کو میاں نواز شریف کے جلسے سے خطاب سننے کی دعوت دی جارہی ہے اور ساتھ میں یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس موقع پر محفلِ موسیقی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

جلسے میں شرکت کے بارے میں عوامی رائے

اس محفل میں گلوکار شمن میرالی بھی شامل ہیں، جو سندھ کے عوام میں خاصے مقبول ہیں اور انہیں سننے کے لیے لوگوں کا مجمع لگ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ لاہور میں تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان کے جلسے میں گلوکاروں کی پرفارمنس کے بعد لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے یہ نیا رجحان سامنے آیا ہے۔

لاڑکانہ شہر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایئرپورٹ روڈ پر واقع مسلم لیگ رہنما بابو سرور جتوئی کے گھر کے باہر کھلے میدان میں میاں نواز شریف کے اس جلسے کا انتظام کیا گیا ہے۔

جلسہ گاہ کے اندر سینکڑوں کرسیاں لگائی گئی ہیں، جن کی تعداد منتظمین تیرہ ہزار بتاتے ہیں جبکہ مقامی صحافی ان کے اس دعویٰ سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

جلسے سے ایک روز قبل مسلم لیگ نون کے رہنما سینیٹر پرویز رشید، پنجاب اسبلی کے ڈپٹی اسپیکر رانا مشہود اور سید غوث علی شاھ لاڑکانہ پہنچ چکے ہیں۔

سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ سے وہی آواز بلند ہوگی جو پاکستان کے دوسرے شہروں سے بلند ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق ’اس بدعنوان اور نااہل حکومت نے پاکستان کی خودمختاری، آزادی، سلامتی اور وقار کو داؤ پر لگا دیا ہے اور اس کے خلاف جو مارچ شروع کیا ہے، اس میں لاڑکانہ کے عوام بھی شامل ہوں گے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستان کی عوام فتح حاصل نہیں کر لیتے ہیں۔‘

سندھ میں اس وقت مسلم لیگ (ق) سے جڑے ہوئے کئی سیاسی خاندانوں کو واپس لانے کے لیے مسلم لیگ ن کافی عرصے سے سرگرم ہے مگر سینیٹر پرویز رشید نے واضح کیا کہ جلسے میں کوئی بھی شمولیت کا اعلان نہیں کر رہا ہے۔

شہر میں حکمران پیپلز پارٹی کے سٹوڈنٹ ونگ سپاف کے کچھ کارکنوں نے پاکستان چوک پر مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کے خلاف احتجاج کیا اور ان کے پتلے کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ میاں نواز شریف جمہوریت کے خلاف سازش میں شریک ہیں۔

مسلم لیگی رہنما سید غوث علی شاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے انتظامیہ کو اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

ان کے بقول یہ افراد سیاست میں شدت پسندی کا طریقہ کار متعارف کرنا چاہتے ہیں، وہ متنبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں ہے، یہ پاکستان کے لوگوں کا شہر ہے اور ملک میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں انہیں ہر شہر میں سیاسی سرگرمیاں کرنے کا حق ہے۔

میاں نواز شریف جلاوطنی کے بعد جب سے پاکستان واپس آئے ہیں لاڑکانہ میں ان کا یہ پہلا جلسہ ہے، اس سے پہلے انہوں نے پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی سربراہ غنویٰ بھٹو، سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو اور سندھ کی قوم پرست رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا ہے۔

اسی بارے میں