سپریم کورٹ میں حقانی کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت انیس دسمبر مقرر کی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے متنازع میمو کے معاملے پر عدالتی حکم واپس لینے کے لیے حسین حقانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ یکم دسمبر کے عدالتی فیصلے کو واپس لیا جائے کیوں کہ یہ یکطرفہ اور عبوری حکم نامہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے دفتر نے یہ اعتراض کیا ہے کہ فیصلے کی واپسی کے لیے نہیں بلکہ نظرثانی کی درخواست دی جاسکتی ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا ’ہم نے رجسڑار کے دفتر کے فیصلے کے خلاف اپیل کی جو ایک جج کے پاس جائے گی اور وہی دیکھیں گے کہ فیصلے کی تبدیلی کے لیے ہماری درخواست بنتی ہے تو وہ ویسے ہی چلی جائے گی اور اگر وہ کہیں گے نہیں بنتی ہے تو ہم نظرثانی کی درخواست دائر کریں گے۔‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یکم دسمبر کو متنازع میمو کے بارے میں دائر درخواستوں کی پہلی سماعت پر نہ صرف صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، بری فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، حسین حقانی اور اس پورے معاملے کے مرکزی کردار منصور اعجاز کو نوٹسز جاری کر کے حسین حقانی کے بیرون ملک جانے پر پابندی بھی لگا دی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے یہ کارروائی پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، ان کی جماعت کے دو اراکینِ پارلیمنٹ اور چھ دیگر افراد کی جانب سے متنازع میمو کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت پر کی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے متنازع میمو کی پہلی سماعت پر جاری کردہ اپنے حکم میں کہا ’اس معاملے پر سیاسی حکومت اور دفاعی ایجنسیوں کے درمیان بے چینی تھی کیونکہ بادی النظر میں اس میمو میں جو کہ اب غیرملکی ذرائع ابلاغ اور مقامی میڈیا پر آچکا ہے، انتہائی قابلِ اعتراض مواد موجود تھا جو کہ ملکی خودمختاری، سلامتی اور پاکستان کی آزادی کے خلاف تھا۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ چونکہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سامنے زیرِالتواء ہے اس لیے عدالت کو اس کی تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے تاہم عدالت کا اصرار ہے کہ اس کی رائے میں دونوں فورمز اس معاملے پر تحقیقات کے خلاف نہیں ہیں بشرطیکہ پارلیمانی کمیٹی کو کوئی آئینی حیثیت حاصل ہو تو دونوں فورمز پر بیک وقت تحقیقات ہوسکتی ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے حکم میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے دائرۂ کار کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول’ہمیں اس کمیٹی کے دائرہ کار کا علم نہیں لیکن ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس کمیٹی کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں کیونکہ اسے کسی دستوری شق کے تحت تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔‘

عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت انیس دسمبر مقرر کی ہے اور اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کردیے ہیں۔

آئندہ سماعت پر صدر پاکستان، آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ اور منصور اعجاز سمیت تمام مدعا علیہان کی جانب سے درخواستوں پر جوابات بھی طلب کیے گیے ہیں۔

اسی بارے میں