دیو آنند کا لاہور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گورنمنٹ کالج لاہور شمالی ہندوستان میں تعلیم و تدریس کا سب سے بڑا مرکز تھا اور دیو آنند نے اپنی نو جوانی کا بہترین حصّہ یہیں گزارا

اٹھاسی برس کی عمر میں لندن کے ایک ہوٹل میں دم توڑنے والے بھارتی اداکار دیو آنند نے اپنی نوجوانی کے بہترین برس لاہور میں بِتائے تھے۔

وہ سولہ برس کی عمر میں گورداس پور سے لاہور آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی ادب کے ایک طالبِ علم کے طور پر داخلہ لیا۔

دیو آنند کے والد پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل تھے لیکن اُنھیں زبانیں سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اُردو، ہندی، فارسی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ وہ سنسکرت میں بھی مہارت رکھتے تھے اور انھوں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر بھی پوری توجہ دے رکھی تھی۔

اپنے بڑے بھائی چیتن آنند کی طرح دیو آنند کو بھی انگریزی ادب کا چسکا تھا، اسی لیے وہ انگلش لٹریچر میں گریجویشن کرنے کے لیے لاہور چلے آئے۔

سنہ انیس سو چالیس کا لاہور کوئی معمولی شہر نہ تھا۔ اسے ہندوستان کا پیرس کہا جاتا تھا۔ پران نویل بھی اُن دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیرِتعلیم تھے۔ وہ اپنی کتاب ’لاہور‘ میں لکھتے ہیں:

’شمالی ہند میں تعلیم کا اعلٰی ترین مرکز لاہور ہی تھا۔ سارے پنجاب کے علاوہ صوبہ سرحد، کشمیر، حتٰی کہ دہلی تک سے جُویانِ علم کشاں کشاں لاہور چلے آتے تھے۔ یوں تو یہاں بے شمار کالج تھے جہاں ہائی سکول سے فارغ التحصیل طالب علموں کو گریجویشن کے لیے داخلہ مل جاتا تھا، لیکن گورنمٹ کالج میں داخلہ حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا اور انتہائی محنتی اور ذہین نوجوان ہی یہ اعزاز حاصل کر سکتے تھے۔ کالج کی شاندار عمارت سنہ اٹھارہ سو ستتّر میں تین لاکھ بیس ہزار روپے کے زرِ کثیر سے گول باغ کے شمال میں ضلع کچہری کے نزدیک تعمیر کی گئی تھی۔‘

گورنمنٹ کالج کی نمایاں ترین خصوصیت وسیع المشربی اور آزاد خیالی کا وہ ماحول تھا جس میں فرقہ وارانہ عصبیت کا شائبہ تک نہ تھا۔

سب طالبِ علم گھل مل کے ایک خاندان کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ اساتذہ میں بڑی بڑی نامور شخصیتیں تھیں جِن میں سے اکثر نے آکسفورڈ اور کیمبرج میں تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ شاگردوں سے وہ کس طرح کے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور کلاس میں کس طرح چُٹکلوں کا تبادلہ ہوتا تھا اس کی ایک مثال معروف مزاح نگار کنہیا لال کپور کے مضمون ’پیر و مرشد‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

گورنمنٹ کالج لاہور کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے دیوآنند کہتے ہیں ’میں پرانے ہاسٹل میں رہتا تھا، واہ کیا دِن تھے۔۔۔ ایک نئی دنیا مجھ پہ آشکار ہو رہی تھی۔ میری شخصیت میں ایک پختگی اور اعتماد پیدا ہو رہا تھا اور یہ خود اعتمادی پھر ساری عمر میرے کام آئی اور اسی کے بل بوتے پر میں ایک عالمی شہری بن سکا۔‘

دیو آنند نے ساڑھے اٹھارہ برس کی عمر میں گریجویشن مکمل کر لی تھی۔ طالب علمی کا زمانہ گزارنے کے نصف صدی بعد جب دیو آنند سٹار ٹی وی کی دعوت پر لاہور آئے اور مادرِ علمی کا دورہ کیا تو فرطِ جذبات سے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

پرانا ہاسٹل تو اب ختم ہو چکا تھا لیکن وہ کمرہ موجود تھا جہاں پروفیسر ڈِ کنسن طالب علموں سے خطاب کیا کرتے تھے۔ دیو آنند کہتے ہیں ’میرا پہلا عشق گورنمنٹ کالج لاہور میں ہوا۔ وہ حیسنہ ہمارے ہسٹری کے پروفیسر کی بیٹی تھی او میری ہم جماعت تھی۔ میں نے عشق تو ڈوب کے کیا لیکن میں سترہ برس کی عمر میں انتہائی شرمیلا تھا اور لڑکی کے سامنے اظہارِ عشق تو کیا، ایک لفظ بھی ادا نہ کر سکتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دیو کے بڑے بھائی ادا کار اور ہدایتکار چیتن آنند نے بھی گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی تھی

فلموں سے دیو آنند کا اولین تعارف لاہور ہی میں ہوا۔ شمالی ہند میں لاہور فلم سازی کا واحد مرکز تھا اور فلمی مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ کلکتے اور بمبئی کی فلمی صنعت کو بھی لاہور سے جانے والے اداکاروں، موسیقاروں، گلوکاروں، گیت نگاروں اور ہدایتکاروں نے سہارا دے رکھا تھا۔

خود لاہور میں چھ فلم سٹوڈیو تھے۔ بھاٹی دروازے کے باہر خاموش فلموں کے دور میں قائم ہونے والا پیرس سنیما اب نئے دور میں ولنگٹن ٹاکیز بن چکا تھا جسکا مقابلہ کراؤن سنیما اور ڈائمنڈ سنیما کے ساتھ تھا۔ کچھ عرصے بعد کراؤن کے بالکل سامنے پیرا ماؤنٹ سنیما تعمیر ہو گیا۔

یہ چاروں سنیما گھر گورنمنٹ کالج سے پیدل راستے پر تھے اور طالبِ علم ٹہلتے ٹہلتے وہاں پہنچ جاتے تھے۔ اُدھر میکلوڈ روڈ کا علاقہ بھی گورنمنٹ کالج سے زیادہ دور نہ تھا جہاں پانچ سنیما ساتھ ساتھ تھے اور قریب ہی ایبٹ روڈ پر بھی دو سنیما موجود تھے۔ اِن سب میں دیسی فلمیں چلتی تھیں جبکہ مال روڈ پر ریگل اور اس سے کچھ فاصلے پر پلازہ سنیما میں انگریزی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔

گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل سے نکل کر تیس چالیس منٹ کی چہل قدمی سے کسی بھی سنیما گھر تک رسائی ہو سکتی تھی۔ دیو آنند نے بھی اِن سنیما گھروں کے چکر لگانا شروع کر دیے۔ اُن کا پسندیدہ اداکار اور گلوکار کےایل سہگل تھا، چنانچہ انھوں نے لاہور میں ریلیز ہونے والی سہگل کی تمام فلمیں دیکھ ڈالیں۔

پھر جلد ہی اُن کا تعارف پرتھوی راج، موتی لال اور اشوک کمار کی فلموں سے ہوگیا۔ دیو آنند کے قیامِ لاہور کے دوران ہی نورجہاں اور پران کی فلم خاندان ریلیز ہوئی لیکن جس فلم نے دیو آنند کے شوقِ اداکاری کو مہمیز کیا وہ بمبئی ٹاکیز کی فلم ’قسمت‘ تھی۔

یہ اپنے زمانے کی زبردست ترین فلم تھی اور کلکتے میں مسلسل تین سال تک چلتی رہی تھی۔ اس میں اشوک کمار نے ایک جیب کترے کا کردار ادا کیا تھا۔

اشوک کمار پہلے ہی سے دیو آنند کے آئیڈیل تھے۔ اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے دیو آنند بتاتے ہیں کہ ایک بار اشوک کمار اور لیلا چٹنس لاہور آئے تو ہزاروں نوجوان ان کے استقبال کے لیے لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچ گئے۔ انھیں جلوس کی شکل میں ریجنٹ سنیما تک لایا گیا جہاں اُن کی فلم ’جھولا‘ زیرِ نمائش تھی۔

دیو آنند بتاتے ہیں کہ ہم بھی گورنمنٹ کالج کے دوستوں کو لیکر اشوک کمار سے ملنے سنیما پہنچ گئے۔۔۔ مگر وہاں اتنا بڑا ہجوم تھا کہ ملنا تو درکنار ہمیں اسکی ایک جھلک دیکھنی بھی نصیب نہ ہوئی۔

سنہ انیس سو تینتالیس میں اشوک کمار کی فلم قسمت دیکھنے کے بعد دیو آنند نے فیصلہ کر لیا کہ وہ بھی فلمی دنیا میں قسمت آزمائیں گے۔ چنانچہ اُمنگوں، آرزوں سے بھرا دِل لیکر گورنمنٹ کالج لاہور کا یہ نوجوان گریجویٹ بمبئی پہنچ گیا۔۔۔ اور یہاں سے جدو جہد کی ایک نئی داستان شروع ہوتی ہے۔

اسی بارے میں