کرم ایجنسی، دو سکیورٹی اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس میں علاقے میں گزشتہ چند ہفتوں سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے: سرکاری اہلکار

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی اور چار شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

کُرم ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صُبح صدہ سے کوئی پچیس کلومیٹر دور شمال مشرق کی جانب تحصیل علی شیرزئی کے علاقے مُرغن کنڈو میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر مُسلح شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

اہلکار کے مطابق اس واقعے میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق سرکاری اہلکار نے بتایا کہ شدت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔اہلکار کے مطابق شدت پسندوں کے حملے میں چیک پوسٹ کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں علاقے میں گزشتہ چند ہفتوں سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے جس میں اب تک پچاس سے زیادہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والے جھڑپوں میں پانچ سے چھ عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے گھروں کو بھی کچھ نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ کُرم ایجنسی کے علاقے ماسوزئی اور علی شیرزئی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی شروع کی ہے جس میں حکام کے مطابق سولہ سو اہلکار حصے لے رہے ہیں جن کو تین ٹینکوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

اسی بارے میں