جلسے کے شرکاء وڈیروں کے ملازم یا کسان

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نواز شریف بینظیر بھٹو کی مزار پر فاتحہ کے لیے جائیں گے۔

سندھ کے شہر لاڑکانہ میں مسلم لیگ ن کے جلسے کی کارروائی شروع ہوگئی ہے، میاں نواز شریف جلسہ گاہ پہنچ چکے ہیں۔

شہر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایئرپورٹ روڈ پر یہ جلسہ گاہ بنائی گئی ہے جس میں منتظمین کے دعوے کے مطابق تیرہ ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں مگر یہ کرسیاں ساڑہ بارہ بجے تک بھر نہیں سکی تھیں، لوگوں کو بار بار نشتسوں پر بیٹھنے کی ہدایت جاری ہوتی رہیں۔

تقاریر سے قبل لوگوں کوتفریح فراہم کرنے کے لیے محفل موسیقی کا انتظام کیا گیا ہے۔ جلسے سے خطاب کرنے کے بعد میاں نواز شریف گڑھی خدابخش جائیں گے، جہاں وہ بینظیر بھٹو کی مزار پر جا فاتحہ پڑھیں گے، اس کے علاوہ نیٹو حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستان فوج کے میجر مجاھد میرانی کے اہل خانہ سے تعزیت کریں گے۔

جلسے کے شرکا میں لاڑکانہ شہر سے آس پاس کے اضلاع کے لوگوں کی تعداد زیادہ نظر آرہی ہے جن میں اکثر مقامی وڈیروں یا مسلم لیگ کے رہنماؤں کے ملازم یا کسان ہیں۔

پگل راہوجو جو نامی کسان نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے جلسے میں آئے تھے اب انہیں وڈیرے نے کہا تھا کہ اس جلسے میں جانا ہے۔ بقول ان کے اس سے پہلے تو ووٹ پی پی کو دیا تھا اب وڈیرہ جسے کہہ گا ووٹ دیں گے۔

الھوسایو مسلم لیگ ق کے سابق صوبائی وزیر الطاف انڑ کے کسان ہیں وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ٹریکٹر ٹرالی میں پہنچے ہیں، انہوں نے بتایا کہ الطاف انڑ نے انہیں جانے کو کہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بھی اچھی جماعت ہے مگر وہ ووٹ اپنے وڈیرے کو دیتے ہیں کیونکہ برداری کا مسئلہ ہے تمام فیصلے وڈیرے نے ہی کرنے ہوتے ہیں۔

ارباب شیخ لاڑکانہ شہر کے رہائشی ہیں اور مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر اور جلسے کے منتظم بابو سرفراز جتوئی کے ملازم ہیں، انہوں نے بھی دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ووٹ پیپلز پارٹی کو دیا تھا مگر بقول ان کے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد اب کوئی شخصیت پیپلز پارٹی میں نہیں ہے جس میں قیادت کی صلاحیت ہو۔

پیپلز پارٹی حکومتی کی جانب سے شروع کی گئی وسیلہ روزگار اسکیم سے وہ سخت نالاں ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس پروگرام کے ذریعے ان کی غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے۔

ان کے مطابق حکومت نے خواتین کو اس پروگرام میں موبائیل ٹیلیفون دے دیئے ہیں جس کی وجہ سے وہ روز مارپیٹ کا شکار ہوتی ہیں اور کئی ماری بھی گئی ہیں۔

مجیب الرحمان خیرپور پولیس میں ملازم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں سید غوث علی شاہ نے ملازمت دی تھی اس لیے وہ ان کی ہدایت پر یہاں آئے ہیں، ان کے ساتھ گمبٹ شہر سے پچاس کے قریب لوگ آئے ہیں۔

جلسے عام میں خواتین موجود تھیں مگر ان کی تعداد سینکڑوں میں نظر آئی۔

جلسہ گاہ میں دو بار پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا مگر چند افراد اس پر کھڑے ہوئے باقی لوگوں نے نشستوں پر بیٹھ کر یہ ترانہ سنا۔

دوسری جانب لاڑکانہ پریس کلب کے باہر مسلم لیگ ن کے ایک پرانی کارکن نثار شاھ نے خود سوزی کی کوشش کی ہے۔ جنہیں تشویشناک حالت میں سول ہپستال پہنچایا گیا ہے۔ اس اقدام سے قبل انہیں میڈیا سے شکایت کی تھی کہ انہیں مسلم لیگ کی مقامی قیادت نظر انداز کر رہی ہے۔

اسی بارے میں