رہائی میں تاخیر، اسامہ کی بیوہ بھوک ہڑتال پر

تصویر کے کاپی رائٹ b

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی یمنی بیوہ امل نے پاکستان میں اپنی قید کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مبینہ طور پر بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

اسامہ کی یمنی بیوہ امل ایک خفیہ مقام پر سرکاری تحویل میں ہیں۔ ان کے بھائی ذکریا احمد نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہن نے سنیچر سے بھوک ہڑتال شروع کی ہے جو ان کی رہائی تک جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ رواں برس دو مئی کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی میں امل ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھیں۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ان کی یمنی بیوہ امل، دو سعودی بیوائیں، اور بارہ بچے حکومتِ پاکستان کی تحویل میں ہیں۔

بی بی سی کی بارہا کوششوں کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی اہلکار ذکریا احمد کے الزامات پر گفتگو کے لیے دستیاب نہیں تھا۔

دو مئی کے واقعات کی تفتیش کرنے والے کمیشن نے ان خواتین سے تفتیشی انٹرویو مکمل ہونے تک انہیں بیرون ملک بھیجنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تاہم گزشتہ ہفتے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اسامہ کی بیواؤں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں اور اب کمیشن کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔

امل کے بھائی کے کا کہنا ہے کہ کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کے بیان کے مطابق اب کمیشن کو امل کی ضرورت نہیں لیکن حکومت ان کی بہن کو رہا کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

ذکریا احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے ایک ماہ ہو چکا ہے، میں پاکستان میں اپنی بہن کی رہائی کی غرض سے موجود ہوں لیکن تب سے لے کر اب تک حکام کھبی کہتے ہیں آج رہا کیا جائے گا تو کھبی تین دن کا وقت دیتے ہیں۔ امل سمیت اہلِ خانہ کی ذہنی اور جسمانی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے خاموشی توڑتے ہوئے رہائی تک بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔‘

دو روز قبل جمعرات کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے حکومتی کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا تھا کہ کمیشن اپنی حتمی رپورٹ رواں ماہ کے آخر تک حکومت کو پیش کر دے گا اور پھر حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ اسے منظرِ عام پر لاتی ہے یا نہیں۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید نے مزید بتایا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں کمیشن نے اسامہ بن لادن کے زندہ بچ جانے والے بیوی بچوں، اعلیٰٰ فوجی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں سمیت ایک سو سے زیادہ گواہوں کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں تاہم ابھی بھی بعض اعلیٰ حکومتی اہلکاروں، اہم سویلینز اور میڈیا کے افراد کے بیانات ریکارڈ کرنا باقی ہیں۔

ذکریا احمد نے انٹرویو کے دوران میڈیا پر آنے والی ان خبروں کی تردید کی کہ یمن کے حکام نے ان کی بہن امل کو اسامہ کی ہلاکت کے بعد قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے مطابق یمن کی حکومت اور پاکستان میں یمنی سفارخانے سے انہیں بھرپور تعاون حاصل ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں یمنی سفیر کئی مرتبہ پاکستان کے وزیرِداخلہ رحمان ملک سے اس سلسلے میں بات کر چکے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی دو سعودی بیواؤں سے متعلق یہ خبریں بھی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستانی حکام انہیں سعودی عرب کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں سعودی عرب کے سفارتخانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستانی حکام کی جانب سے ان سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

پاکستانی حکام کی مدد سے پانچ مرتبہ اپنی بہن امل کو نامعلوم مقام پر ملنے والے ان کے بھائی ذکریا احمد کا کہنا ہے کہ ان کی بہن سمیت اسامہ کے تمام اہل خانہ ذہنی کوفت کا شکار ہیں ۔ ذکریا نے الزام عائد کیا کہ زیر حراست امل کو مکمل علاج میسر نہیں ہے جس پر انہیں تشویش ہے۔

ذکریا احمد نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کی رہائی کے سلسلے میں ان کی مدد کریں۔

اسی بارے میں