’طالبان، پاک افغان اتحاد اور امن کے خواہشمند‘

Image caption مولوی فقیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مٹی، پانی اور ہوا پر پاکستان کا ہی حق ہے

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے نیٹو کے حملے کے بعد حکومتِ پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان کے موقف میں آزادی اور خودمختاری کی جھلک محسوس ہورہی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ طالبان کے اہم کمانڈر مولوی فقیر محمد نے پاک افغان اتحاد کو ضروری قرار دیتے ہوئے قیام امن کی اہمیت پر زور دیا۔

مولوی فقیر محمد نے کہا ہے کہ بات چیت ہورہی ہے، آڈیو

انہوں نے سنیچر کی صبح پاک افغان سرحدی علاقے سے بی بی سی سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ مہمند ایجنسی میں فوجی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد پاکستان کے اقدامات نہایت خوش آئند ہیں۔

طالبان کمانڈر نے کہا کہ ’موجود حالات میں جب ملک انتہائی سخت حالات سے گزرہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام اور ملک کی خاطر طالبان اور قوم کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے مولوی فقیر محمد نے بتایا کہ دونوں ممالک میں امن ایک دوسرے کےلیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد اور کابل کو غیر ملکی طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا جبکہ پاکستان کو بھی خطے میں امن قائم کرنے کےلیے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔‘

مولوی فقیر کا کہنا تھا ’پاکستان کی مٹی، پانی اور ہوا پر پاکستان کا ہی حق ہے کسی اور کا نہیں۔‘

خیال رہے کہ یومِ عاشور پُرامن طور سے گزرنے پر پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے طالبان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

اسی بارے میں