شمسی ایئر بیس کا کنٹرول فوج کے پاس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رسمی طورپر پاکستانی سیکورٹی فورسز نے شمسی ائیر بیس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے امریکی فورسز کی جانب سے شمسی ایئر بیس خالی کیے جانے کے بعد اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

نیٹوافوا ج کی جانب سے چھبیس نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان نے طورخم اور چمن کے راستے افغانستان کو نیٹو کی سپلائی فوری طور پر بند کر دی تھی جبکہ پاکستان کی دفاعی کمیٹی نے بلوچستان میں واقع شمسی ایئر بیس کو پندرہ دن میں خالی کرنے کی دیڈ لائن دی تھی۔

اتوار کے روز رسمی طور پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شمسی ایئر بیس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔ شمسی ایئر بیس کوئٹہ کے جنوب مغرب میں تین سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع وارسک میں واقع ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے بھی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے یہ فضائی اڈہ خالی کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ پی ٹی وی نے شام پانچ بجے کے قریب آئی ایس پی آر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا آخری جہاز اہلکاروں کو اور سامان لے کر روانہ ہوگیا ہے جس کے بعد شمسی ایئر بیس کا کنٹرول فوج نے سنبھال لیا ہے۔

شمسی ایئر بیس حکومت پاکستا ن نے انیس سو بانوے میں متحدہ عرب امارات کو شکار کے لیے لیز پر دیا تھا۔ کیونکہ عرب شہزادوں کی ایک بڑی تعداد ہرسال تلور کی شکار کیلیے ان علاقوں میں آیا کرتی تھی۔

تاہم گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اکتوبر دو ہزار ایک میں اس ایئر بیس کو امریکہ کے حوالے کر دیاگیا جہاں سے سی آئی اے اور امریکی فضائیہ نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف نہ صرف فضائی آپریشن کا آغاز کیا بلکہ سال دوہزار چھ میں اس ایئر بیس کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف ڈرون حملے بھی شروع کیے تھے۔

قبائلی علاقوں میں جاری ڈرون حملوں سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں جس پر پورے ملک میں شدید غم و غصہ پایا جاتاہے۔ خاص کر پاکستان کے مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہمیشہ شمسی ایئربیس کو امریکہ کے حوالے کرنے کی شدید مخالفت کی گئی۔

نیٹو کنٹینرز کی واپسی

ادھر نیٹو کی رسد کی معطلی کے بعد صوبہ بلوچستان میں رکے ہوئے کنٹینروں اور تیل کے ٹینکروں کی کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں کی جانب واپسی کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے اور اسی دوران چار ٹینکرز کو نذرِ آتش بھی کیا گیا ہے۔

ٹینکرز جلانے کا واقعہ اتوار کو بلوچستان کے علاقے ڈھاڈر میں اس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے کوئٹہ سے واپس کراچی جانے والے چار ٹینکروں کو آگ لگا دی۔

وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے دو روز قبل صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی کو ہدایت کی تھی کہ صوبے کے تمام علاقوں میں موجود نیٹو کے ٹینکروں اور کنٹینروں کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے یہ ہدایت جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کوئٹہ کے نواحی علاقے خروٹ آباد میں نیٹو ٹرمینل پر حملے کے بعد دی تھی جس میں چوبیس آئل ٹینکرز ہزاروں لیٹر تیل سمیت جل گئے تھے۔

اتوار کو ہی نامعلوم افراد نے بلوچستان سے واپس جانے والے چار کنٹینروں کو اغواء بھی کر لیا۔ تاہم بعد میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کر کے دو کنٹینر برآمد کر لیے جبکہ باقی دو کی تلاش جاری تھی۔

اسی بارے میں