بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچستان اسمبلی نے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے کے خلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی سالمیت اور وقار کے لیے دہشت گردی کے خلاف جاری نام نہاد جنگ سے مکمل علٰیحدگی اختیار کی جائے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر محمد اسلم بھوتانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس شروع ہوتے ہی سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالوسع نے صوبائی وزراء انجینیئر زمرک خان، حاجی علی مدد جتک، مولانا عبدالصمد اخونزادہ و دیگر کی جانب سے مشترکہ قرار داد ایوان میں پیش کی گئی۔

قرارداد پر بحث کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر مولاناعبدالواسع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں ہزاروں پاکستانی فوجی و شہری ہلاک ہوئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے ناخوشگوار واقعہ کے بعد ہمارے اداروں اور حکمرانوں نے جس قومی غیرت کا مظاہرہ کیا وہ پوری قوم کی خواہش اور وقت کا تقاضہ ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم ایک خود مختار مملکت ہیں اور ہماری سرحدوں کے تقدس کا خیال رکھنا ضروری ہے اور شمسی ائر بیس خالی اور نیٹو سپلائی بند کرنے کے فیصلے خوش آئند ہیں تاہم یہ مستقل بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔‘

صوبائی وزیر زمرک اچکزئی نے کہا کہ حکمرانوں نے جو فیصلے آج کیے ہیں وہ نائن الیون کے فوری بعد ہونے چاہیے تھے مگر اس وقت چند ڈالروں کے لیے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ لگا کر ملک کو غیروں کی جنگ میں جھونک دیا گیا اب جب حکومت نے فیصلہ کیا ہے تو پوری قوم نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ اب جبکہ حکومت نے ایک احسن قدم اٹھایا ہے تو میمو سکینڈل جس کا کوئی وجود ہی نہیں اسے اچھالا جا رہا ہے۔

نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا کہ صرف شمسی ایئربیس واپس لینا اور نیٹو سپلائی کی بندش کافی نہیں ہے ہمیں اپنی ملکی سالمیت کیلیے نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے مکمل علٰیحدگی اختیار کرنا ہوگی۔

مذمتی قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو افواج کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف عالمی قوتوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے۔ ان قوتوں کی جانب سے عالمی سطح پر پاکستان پر پابندیاں عائد کروانے کی بھی کوششیں کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف مذمت کرنا کافی نہیں بلکہ اب ہمیں جارحیت روکنا ہوگی۔ اپنے جینے کے حق اور خودمختاری کے لیے اگر اب بھی مستقل بنیادوں پر فیصلے نہ کیے گئے تو جہاں آج پاک فوج کے چوبیس جوان مارے گئے ہیں وہ تعداد کل چوبیس سو ہو جائےگی۔

جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر مولانا عبدالصمد اخونزادہ نے کہا کہ ہمیں مکمل طور پر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے علٰیحدہ ہونا ہوگا اور ان عوامل کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ یہ جنگ جو پاکستان اور قوم کے مفادات کے خلاف تھی، ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے اور افغانستان میں جنگ مسلط کرنے کے بعد ہم پر بھی مسلط کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک اور آگ کی جانب دھکیلا گیا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں مستقل بنیادوں پر فیصلے کرنے ہوں گے۔ اگر آج بھی مستقل بنیادوں پر فیصلے نہ کیے تو پھر ملکی سالمیت اور وقار کا بچانا ممکن نہیں ہوگا۔

بعد میں مذمتی قرارداد کو اتفاق رائے سے ایوان میں منظور کر لیا گیا۔

اسی بارے میں