’لاشوں کا ملنا ملک کے مفاد میں نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فرنٹیئر کور بلوچستان کے سربراہ میجر جنرل عبید اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں کا ملنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ بیرون ملک پرآسائش زندگی گزارنے والوں نے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے معصوم لوگوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما کر پہاڑوں پر بھیجا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق انسپکٹرجنرل فرنٹیئر کور بلوچستان عبیداللہ خان نے منگل کو کوئٹہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے شمسی ائر بیس خالی کرانے اور نیٹو سپلائی کی بندش کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

اس موقع پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ پاکستان کے جذباتی معاشرے میں امریکہ کے خلاف غصہ آئل ٹینکرز کو نذرآتش کرنے کی صورت میں کیا جاتا ہے، اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تاثر کو نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جس طرح کے حالات ہیں ایسے میں ہم نے سرحدوں پر اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور کسی بھی جانب سے حملہ ہونے کی صورت میں پاکستان کا بھر پور دفاع کریں گے۔

بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی ایف سی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور آپریشن اِس کا کوئی حل نہیں۔

انھوں وضاحت کرتے ہوئے مزید بتایا کہ اس وقت کہیں بھی کوئی آپریشن نہیں ہو رہا اور ایف سی بھی اس وقت تک کوئی کارروائی نہیں کرتی جب تک اسے مجبور نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی، مفاہمتی پالیسی کا راستہ اپنایا گیا اور تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن عوامی سطح پر اس کا کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔

انہوں نے بتایا کہ امن وامان کے حوالے سے گزشتہ سال کی نسبت اس سال قدرے کم واقعات رونما ہوئے ہیں تاہم ان واقعات میں انسانی جانوں کا ضیاع زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ مل کر امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں چند عناصر ہیں جو آج بیرونِ ملک بیٹھ کر پرآسائش زندگی گزار رہے ہیں لیکن یہاں لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے انہیں سبز باغ دکھا کر پہاڑوں پر بھیج دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کچھ ہمارے اپنوں کے اور کچھ غیروں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور بلوچستان کے امن کو برباد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ براہمداغ بگٹی نے مسلح جدوجہد سے اظہار لا تعلقی کیا تھا تو ہم نے اس کا خیر مقدم کیا لیکن ان کا وہ بیان خلوص نیت پر مبنی نہیں تھا انہوں نے صرف سیاسی پناہ کے لیے اس طرح کا بیان دیا تھا لیکن ہم آج بھی تمام لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ خلوصِ نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا موثر اور عملی کردار ادا کریں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہاں لوگوں کو لاپتہ کرنا یا ان کی لاشیں پھینکنا ریاستی یا ایف سی پالیسی نہیں اور نہ ہی اس سے ریاست کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے بلکہ مختلف لاشوں نے یہاں کام کرنے والے مسلح گروہوں کو تحفظ فراہم کیا تھا۔

اسی بارے میں