’کسی ملک کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کر سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ اہم قومی معاملات پر تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور کسی بھی ملک کے ساتھ تصادم پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق منگل کو خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے پاکستانی سفیروں کی دو روزہ کانفرنس میں شرکت سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ’ہم کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات ختم نہیں کر سکتے بلکہ ہم صرف اپنے قومی مفادات اور مقاصد کا تحفظ کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پیر کو اجلاس کے پہلے روز علاقائی سکیورٹی کے معاملات پر بحث کی گئی اور قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

دریں اثناء سفیروں کی کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نیٹو کے حملے کی پاکستان کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات سے کچھ پریشان کن سوالات سامنے آئے ہیں، نیٹو اور امریکہ کی تحقیقات میں اس کے جواب ملنے چاہیئے۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ قومی مفاد اور اہم مقاصد کی روشنی میں اپنی خارجہ پالیسی مرتب کریں گی تاکہ ملکی مفاد کا تحفظ کیا جا سکے۔

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر کے مطابق کانفرنس کے اختتامی اجلاس کے بعد جو بھی سفارشات مرتب کی جائیں گی، وہ پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی کیونکہ پارلیمان ہی مقدم ادارہ ہے جس کے پاس پالیسی مرتب کرنے کا اختیار ہے۔

افغانستان میں موجود نیٹو افواج کےلیے جانے والی رسد پر پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پارلیمان اور پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کو اس بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔

وزیراعظم گیلانی کا کانفرس میں خطاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ چھبیس نومبر کو پاکستانی چوکیوں پر ہونے والے حملے کی پاکستان کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات سے کچھ پریشان کن سوالات سامنے آئے ہیں اور نیٹو، امریکہ کی تحقیقات میں اس کے جواب ملنے چاہیئے۔

انہوں نے یہ بات نیٹو حملے کے تناظر میں ملک کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے پاکستانی سفیروں کی دو روزہ کانفرنس کا اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ خطہ مشکل دور سے گزر رہا ہے اور افغانستان کے مسئلے کے تسلی بخش حل کے لیے خاص طور پر اس خطے اور بین الاقوامی برادری کو کئی چیلینجز درپیش ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام ممالک کو افغانستان کے امن اور استحکام کےلیے مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے اور افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا تعاون ہمیشہ جاری رہے گا۔

وزیراعظم کے مطابق چھبیس نومبر کو پاکستانی فوج کے چوکیوں پر ہونے والے حملے نے افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے توقع کی کہ چھبیس نومبر کو پاکستانی چوکیوں پر ہونے والے حملے کی پاکستان کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات سے کچھ پریشان کن سوالات سامنے آئے ہیں اور نیٹو، امریکہ کی تحقیقات میں اس کے جواب ملنے چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد حکومت نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے کچھ اہم فیصلے کیے جس نیٹو کی رسد کو معطل کیا گیا، شمسی ائربیس کو خالی کروایا گیا، پاکستان نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں جرمنی میں ہونے والی کانفرنس کا بھی بائیکاٹ کیا اور نیٹو اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کا حکم دیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور نیٹو اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جس کے بعد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اس پر بحث کی جائے گی۔

یاد رہے کہ نیٹو حملے کے تناظر میں ملک کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے پاکستانی سفیروں کی دو روزہ کانفرنس بلائی گئی تھی۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی شرکت کی۔

اس کانفرنس کا افتتاحی اجلاس پیر کے روز ہوا تھا جس میں امریکہ، برطانیہ، افغانستان اور سعودی عرب سمیت پندرہ اہم ممالک کے پاکستانی سفیروں کے علاوہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائین، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور وزیرِ خارجہ عبدالحفیظ شیخ بھی شرکت کی تھی۔

اسی بارے میں