’بلوچ صحافیوں سے امتیازی سلوک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کانفرنس میں پاکستان سمیت سری لنکا ،افغانستان اور سویڈن کے صحافیوں نے شرکت کی

صحافیوں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے دوران درپیش خطرات کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس اس وقت کشیدگی ہوگئی جب بلوچستان سے آئے صحافیوں نے اپنی ہی برادری پر بلوچ صحافیوں کے ساتھ امتیاز برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے صوبے اور ملک کے کسی بھی دوسرے حصے میں صحافیوں کے ساتھ منفی برتاؤ کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا ہے۔

انٹرمیڈیا پاکستان، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان انسٹیٹوٹ آف پیس سڈیز کی جانب سے اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس کا مقصد شورش زدہ علاقوں کی کوریج کرنے اور دیگر صحافیوں کو درپیش خطرات سے بچاؤ کے لیے تجاویز اکھٹی کر کے ایک ایسا قانون بنانا ہے جس سے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل اور تجاویز جمع کرنے کی عرض سے منعقدہ تقریب میں شامل بلوچ صحافیوں نے اپنے صوبے میں ہلاک ہونے والے ساتھیوں سے متعلق میڈیا اور سرکاری سطح پر خاموشی کے خلاف آواز اٹھائی۔

ان صحافیوں نے کہا کہ جہاں انہیں شدت پسندوں اور بعض سرکاری اداروں سے خطرہ ہے وہیں بہت بڑا خطرہ انہیں اپنے اداروں سے بھی ہے۔

تقریب میں شریک بلوچستان کے صحافیوں نے اپنے ساتھ میڈیا اور حکومت کی جانب سے برتے جانے والے امتیازی سلوک پر کھل کر بات کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوے کوئٹہ کے صحافی شہزادہ ذوالفقار نے اپنے مسائل بتاتے ہوئے کہا ’اسلام آباد میں قتل کیے جانے والے صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت پر تمام صحافی براداری اکھٹی ہوئی جو کہ ایک صحیح قدم تھا لیکن صحافی چاہے فاٹا کا ہو یا بلوجستان کا ان کےحقوق کے لیے مل کر آواز بلند کرنی چاہیے جو کہ پاکستان میں نہیں ہوتا۔‘

اِس کی مثال دیتے ہوے انہوں نے کہا کہ سلیم شہزاد کی ہلاکت سے پہلے تقریباً چودہ صحافی بلوچستان میں قتل کیے گےلیکن کسی سرکاری ادارے یا میڈیا نے اس پر ایک مناسب بیان تک جاری نہیں کیا۔‘

تقریب کے مقررین میں انسانی خقوق کے کارکن آئی اے رحمان بھی شامل تھے۔

انہوں نے بلوچ صحافیوں کی ناراضگی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں ڈرائیونگ سیٹ پر صحافی کے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جب تک صحافی کی بجاے میڈیا کے مالکان کے ہاتھ میں چینل کی پالیسی رہے گی تب تک اس طرح کی تفریق ختم کرنا مشکل ہے اور ایسی صورت میں نہ تو صحافی اپنا کام کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے آپ کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

کانفرنس میں پاکستان سمیت سری لنکا ،افغانستان اور سویڈن کے صحافیوں نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک نے یقین دیہانی کرائی کہ اگر صحافی برداری اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انہیں اپنی تجاویز دیں تو وہ قانون سازی کے مرحلے میں دیر نہیں کریں گے۔انہوں نے تمام صحافیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرانے اور ان کے نتائج عوام کے سامنے لانے کا بھی وعدہ کیا۔

ایک بین الاقوامی تنظیم نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ملک قراد دیا ہے۔

ایک جائزے کے مطابق اب تک پاکستان میں چھہتر کے قریب صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی ہلاکت دہشت گردی اور اس کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے دوران ہوئیں۔

صحافیوں کا تحفظ اور اس سلسلے میں قانون سازی کرنے کی یقین دہانی تب تک سود مند ثابت نہیں ہو گی جب تک چھہتر ہلاک ہونے والی صحافیوں کے خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا۔

اسی بارے میں