کوہاٹ: لڑکوں کا سرکاری سکول تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے دوران چھ سو سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں پولیس کے مطابق نامعلوم شدت پسندوں نے لڑکوں کے ایک مڈل سکول کو دھماکے سے تباہ کر دیا ہے۔

کوہاٹ میں پولیس اہلکار محمد صدیق نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ شہر سے کوئی بیس کلومیٹر دور مشرق کی جانب راولپنڈی روڈ پر واقع بیلیٹنک کے علاقے میں لڑکوں کے ایک سرکاری مڈل سکول کی عمارت کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکول کے پانچ کمرے مکمل طور پر تباہ ہوئے، تین کمروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ سکول کی چار دیواری کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکول کی عمارت میں دو دھماکے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو کیے گئے جس سے قریبی علاقے لرز اُٹھے البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ کوہاٹ اور کوہاٹ کے نیم قبائلی علاقوں میں اب تک چالیس سے زیادہ سکول دھماکوں سے تباہ کیے گئے ہیں جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور دیگر قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے دوران چھ سو سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور ضلع ٹانک میں میں نامعلوم شدت پسندوں نے لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول میں دھماکہ کر کے تباہ کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹانک شہر سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور شمال کی جانب علاقے ملازئی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب نامعلوم شدت پسندوں نے لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول کی چاردیواری میں بارودی مواد نصب کیا جو پیر کی صبح ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں تین کمروں پر مُشتمل پرائمری سکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ جبکہ چاردیواری کو بھی کافی نقصان پہنچا۔

اہلکار کے مطابق اس واقعہ کے بعد پولیس کے بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹانک کے مضافاتی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے درجنوں جنگجووں موجود ہیں اور ہر علاقے میں ان کا کمانڈر بھی مقرر ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اس واقعہ کے بعد کوئی بھی لڑکی سکول نہیں گئی ہے۔

اسی بارے میں