کراچی: مدرسے سے چالیس طلباء بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نےگلشنِ معمار کے علاقے میں واقع ایک مدرسے میں زنجیروں سے باندھ کر رکھے جانے والے چالیس سے زائد طالب علموں کو بازیاب کروا لیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ان افراد کو مدرسے کے تہہ خانے میں رکھا گیا تھا اور ان پر تشدد بھی کیا جاتا تھا۔

پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بازیاب کروائے جانے والے افراد کی عمریں بارہ سے پچاس سال کے درمیان ہیں۔

پولیس کے مطابق مدرسہ چلانے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم ان کا سربراہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے پولیس کارروائی میں بازیاب کیا گیا۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا بازیاب کیے جانے والے زیادہ تر طالب علم نشے کے عادی ہیں اور انہیں ان کے والدین علاج کے لیے مدرسہ لائے تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ آیا ان بچوں کو کہیں دہشت گردی کے لیے تو تیار نہیں کیا جا رہا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پندرہ ہزار سے زائد مدرسوں میں بیس لاکھ کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں۔

اسی بارے میں