سیاسی پارٹی ہے کلب نہیں، سب کو خوش آمدید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحریک انصاف ایک سیاسی پارٹی ہے کوئی نجی کلب نہیں ہے اور ہم سب کو خوش آمدید کہیں گے: عمران خان

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اپنے مقصد کے لیے کمپرومائز(سمجھوتہ) کیا جاسکتا اور ان کا مقصد پاکستان میں جاری جمود کو توڑنا ہے۔

بدھ کو لاہور میں ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ’ہم نے پاکستان کے ہر حلقے سے الیکشن لڑنا ہے اس لیے تحریک انصاف کو انتخابات کے لیے ایک ہزار امیدوار چاہیے لیکن یہ کہنا کہ ایک ہزار میں تمام نئے لوگ آئیں گے تو یہ خوابوں میں تو ہو سکتا ہے حقیقت میں نہیں ہو سکتا۔‘

عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف اصل میں تبدیلی اس وقت لائے گی جب یہ حکومت میں آئے گی۔

انہوں نے کہا وہ شہروں میں زبردست نئے لوگ لا کر دکھائیں گے لیکن ان کے بقول دیہاتی علاقے کی سیاست مختلف ہے اور وہ جانتے ہیں کہ یہ سیاست کیا ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہاکہ’تحریک انصاف ایک سیاسی پارٹی ہے کوئی نجی کلب نہیں ہے اور ہم سب کو خوش آمدید کہیں گے۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ ان کا پارلیمانی بورڈ بھی نئے اور پرانے لوگوں کا مکسچر ہوگا لیکن اکثریت ان پرانے لوگوں کی ہوگی جو پندرہ سال سے ان کے ساتھ ہیں اورنظریاتی لوگ ہیں۔

انہوں نے پارلیمانی بورڈ میں نئے لوگوں کی شمولیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’ہر حلقے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا سیاست دان کتنے پانی میں ہے اور اس کی کیا شہرت ہے‘۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور میں جلسے کی کامیابی کے بعد عمران خان کے رویے میں ایک خاص لچک دکھائی دے رہی ہے۔

ان کے مخالفین اور خود پارٹی کے پرانے کارکن یہ شکوہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پارٹی میں ایسے لوگ شامل کیے جا رہے ہیں جو روایتی سیاستدان ہیں اور کئی پارٹیاں تبدیل کرنے کے بعد تحریک انصاف تک پہنچے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ دیں گے تب یہ ان کی پارٹی کے بارے میں یہ تبصرہ کیا جائے کہ یہ تبدیلی کی پارٹی ہے یا سٹیٹس کو کی پارٹی ہے۔

سیاسی جماعتوں سے مفاہمانہ رویہ اپنانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ مفاہمت تو مسلمانوں کے نبی نے بھی صلح حدیبیہ میں کی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا مقصد پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے یا پھر مقصد کے لیے سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ مقصد کے لیے کمپرومائز ہو سکتا ہے اور ان کا مقصد پاکستان میں طاری جمود کو توڑنا، نئے لوگوں کو آگے لیکر آنا اور نئی سوچ، نئی سیاست اور نیا منشور لیکر آنا ہے جو سٹیٹس کو (جمود) کے ہوتے ہوئے نہیں آ سکتا۔

عمران خان نے پچیس دسمبر کو ہونے والے کراچی جلسے کے حوالے سے کہا کہ جو قوتیں سٹیس کو سے فائدہ اٹھا رہی ہیں وہ اس جلسے سے ڈری ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نفرتوں کی سیاست کافی ہوگئی، میں سیاسی جماعتوں کو برا بھلا کہہ کر ان کے مخالفین کو اپنے ساتھ جوڑ سکتا ہوں لیکن کراچی پاکستان کا اقتصادی دارالحکومت ہے اور ملک کا ستر فی صد سرمایہ یہاں سے پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسی لیے ایم کیو ایم اور ذوالفقار مرزا کی لڑائی میں غیر جانبدار رہے۔

’مجھ پر بڑا زور لگایا گیا لیکن میں جان بوجھ کر اس لڑائی میں نہیں پڑا کہ کوئی تو ہو جو لوگوں کو اکٹھا کرے۔ ابھی تک ہم سب کو تقسیم کر رہے ہیں جس کا فائدہ ایک چھوٹے سے طبقے کو ہو رہا ہے اور پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ وہ کراچی جلسے میں کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ صرف لوگوں کو بلائیں گے کیونکہ اگر سیاسی قوتوں کو بلایا گیا تو ممکن ہے کہ لوگ تقسیم ہوگے۔’اگر ایک کو بلائیں گے تو دوسرے ناراض ہو جائیں گے۔‘

اسی بارے میں