این آر او،عمل درآمد نہ ہونے پر نوٹس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

سپریم کورٹ نے این آر او یعنی قومی مصالحتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم، چاروں صوبوں کے گورنرز، چیف سیکرٹریز، وزارتِ قانون اور وزارتِ داخلہ سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔

صدر اور وزیر اعظم سے جوابات اُن کے پرنسپل سیکرٹریز کے ذریعے طلب کیے گئے ہیں۔

عدالت کی طرف سے جاری ہونے والے اس نئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کی طرف سے سولہ دسمبر سنہ دوہزار نو کو این آر او کو کالعدم قرار دینے اور اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والے افراد کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے سے متعلق عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی جسے آٹھ دسمبر کو مسترد کردیا گیا تھا اور عدالت نے اپنے سولہ دسمبر کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والے تمام افراد کے خلاف مقدمات کو پانچ اکتوبر سنہ دوہزار سات سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جاری ہونے والے اس آرڈیننس کے تحت صدر آصف علی زرداری سمیت ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات ختم کر دیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ میں جمع کراوئے گئے اعداد و شمار کے مطابق حکمراں اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف فوجداری مقدمات تھے جو اس آرڈیننس کے تحت ختم کردیے گئے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے سے متعلق وفاقی حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں ہدایات جاری کی تھیں تاہم حکومت کا موقف ہے کہ صدر کو آئین کے تحت استثنی حاصل ہے اس لیے اُن کے خلاف اندرون ملک اور بیرون ملک مقدمات نہیں کھولے جا سکتے۔

این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی بابت درخواست پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے این آر او کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر ہونے کی وجہ سے عمل درآمد سے متعلق درخواست پر سماعت روک دی گئی تھی۔

این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین نوید احسن اور پراسکیوٹر جنرل ڈاکٹر دانشور ملک کو اپنے عہدوں سے الگ ہونا پڑا تھا۔

سپریم کورٹ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں جلد ہی لارجر بینچ تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں