سرکاری اساتذہ صحافتی سرگرمیوں میں ملوث

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فاٹا سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے نوٹس میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور کلرکوں کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے

پاکستان میں شدت پسندی سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں ایسے سینکڑوں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے جو اپنے فرائض کی بجائے صحافتی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔

وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں کے پشاور میں قائم فاٹا سیکرٹریٹ نے ٹرائیبل یونین آف جرنلٹس کی مرکزی کابینہ کو ایک تحریری نوٹس جاری کیا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ ٹرائیبل یونین آف جرنلٹس کی تنظیم میں ایسے سرکاری سکول کے اساتذہ اور کلرک شامل ہیں جو اپنی ڈیوٹیوں کی بجائے صحافتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

فاٹا سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے نوٹس میں کابینہ سے اپیل کی گئی ہے کہ ان سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور کلرکوں کی رکنیت ختم کرکے انہیں یونین سے نکال دیا جائے۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق اس نوٹس میں صرف قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کا ذکر کیاگیا ہے تاہم ٹرائیبل یونین آف جرنلٹس کے مرکزی صدر نے تصدیق کی ہے کہ تمام قبائلی علاقوں سے صحافت کرنے والوں میں اساتذہ کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

ٹرائیبل یونین آف جرنلٹس کے مرکزی صدر صفدر حیات داوڑ نے بتایا کہ فاٹا سیکرٹریٹ کی جانب سے ان کو تحریری نوٹس ملا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کی یونین میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور کلرکوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے لہذا انہیں یونین سے نکال دیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ فاٹا سیکرٹریٹ کے نوٹس کے مطابق وہ فیصلہ ضرور کریں گے لیکن یہ فیصلہ کابینہ کے اجلاس یا جنرل باڈی کی میٹنگ کے بعد ہی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں صحافیوں کا ویسے ہی فقدان ہے اگر ان کو نکال دیا جائے تو بہت ساری مشکلات سامنے آ جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مشلات کے باوجود وہ حکومت کے قانون کی پاسداری کریں گے۔

صفدر حیات داوڑ کے مطابق نوٹس میں بتایاگیا ہے کہ ڈیوٹی سے غفلت حکومت اور قوم دونوں کے ساتھ غداری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونین میں یہ مسئلہ بہت پرانا ہے، اب آئین میں یہ ترمیم کی گئی ہے کہ یونین میں شامل کوئی سرکاری ملازم الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ہے اور نہ ہی آئندہ کسی سرکاری ملازم کو یونین کی رکنیت دی جائے گی۔

خیبر ایجنسی میں ایک سکول ٹیچر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قبائلی علاقے تعلیم کے لحاظ سے بہت پسماندہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں صرف اساتذہ ہی نہیں جو صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں بلکہ ٹرائیبل یونین میں ایسے افراد بھی ہیں جو سمگلر اور دوسرے جرائم پییشہ کاموں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکولوں میں اساتذہ کو بہت کم معاوضہ دیا جاتا ہے اسی لیے وہ صبح سکول میں ڈیوٹی دیتے ہیں اور شام کو اخبار کے لیے لکھتے ہیں ہے۔

یاد رہے کہ ٹرائیبل یونین آف جرنلٹس میں دو سو سے زیادہ صحافی شامل ہیں جن میں نصف سے زیادہ سرکاری ملازمین بتائے جاتے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق صحافت کرنے والے سرکاری اہلکار صرف قبائلی علاقوں سے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی ایسے علاقے ہیں جہاں صحافی سرکاری ملازمین بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں