خیبر ایجنسی: قبرستان کے دو محافظ ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نورالحق قادری کے مرید اکثر اس قبرستان میں فاتحہ کےلیے آتے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سابق وفاقی وزیر اور رکنِ قومی اسمبلی نورالحق قادری کے آبائی قبرستان کی حفاظت پر مامور دو افراد کو مسلح شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق قبرستان میں نصب دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو لنڈی کوتل کے علاقے پیروخیل میں مسلح شدت پسندوں نے رکنِ قومی اسمبلی نورالحق قادری کے آبائی قبرستان میں داخل ہو کر وہاں موجود دو محافظوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں محافظوں پر تشدد کیا گیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کے گلے کاٹنے کی بھی کوشش کی گئی ہے تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ لاشوں کے قریب دھماکہ خیز مواد بھی نصب کیا گیا تھا تاہم بم ڈسپوزل سکواڈ نے اسے ناکارہ بنا دیا ہے۔

اس سے پہلے اسی قبرستان میں سابق وفاقی وزیر کے رشتہ داروں کی قبروں کو دو مرتبہ بارودی مواد سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بعد یہاں سے کچھ قبروں کو دوسرے قبرستانوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نورالحق قادری کے مرید اکثر اس قبرستان میں فاتحہ کے لیے آتے ہیں۔

واضح رہے کہ نورالحق قادری تحصیل لنڈی کوتل کے ایک بااثر پیر سمجھے جاتے ہیں اور اس علاقے میں قادریہ سلسلے سے تعلق رکھنے والے ان کے ہزاروں مرید ہیں۔

قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں پچھلے چند سالوں سے اولیاء کرام اور پشتو زبان کے شاعروں کے مزاروں اور مقبروں پر شدت پسند عناصر کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے پہلے عظیم پشتو شاعر عبد الرحمان بابا اور امیر حمزہ خان شنواری کے مقربوں کو بھی بم دھماکوں میں تباہ کیا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ان حملوں میں عسکریت پسندوں کے بعض وہ گروہ ملوث ہیں جو مزاراوں پر جانے کو شرک سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں