’مجموعی صورتحال کو تنگ نظری سے دیکھا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے دی جانے والی ستّر کروڑ ڈالر کی امداد کو دیسی ساخت کے دھماکہ خیز مواد کے معاملے سے مشروط کرنے کا فیصلہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ کانگریس میں جو بل پیش کیا گیا ہے وہ حقائق پر مبنی نہیں ہے اور مجموعی صورتحال کو تنگ نظری سے دیکھا گیا ہے، اس لیے غلط نتائج اخذ کرنے سے گزیر کیا جائے۔‘

پاکستان کی جزوی امداد روکنے کا بل منظور

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کر رہا ہے اور پاکستان کی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق عبدالباسط نے بتایا کہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کے لیے سفیروں کی طرف سے مرتب کی گئی سفارشات عوامی امنگوں اور پاکستان کے قومی مفاد کے مطابق ہیں اور وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے وہ سفارشات پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی میں پیش کر دی ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے اس ’ڈیفینس آتھرائزیشن بل‘ کی منظوری دی ہے جس کی ایک شق کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے ستّر کروڑ ڈالر کی رقم روک لی جائے گی۔

بدھ کو ایوان نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ میں اس قرارداد کے حق میں دو سو تراسی جبکہ مخالفت میں ایک سو چھتیس ووٹ آئے تھے۔

Image caption امریکی ایوانِ نمائندگان نے اس ’ڈیفینس آتھرائزیشن بل‘ کی منظوری دی ہے

اس اتفاقِ رائے کے بعد امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی ستّر کروڑ ڈالر کی امداد روکی نہیں گئی بلکہ اسے امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے دیسی دھماکہ خیز مواد کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ حکمتِ عملی کی تیاری سے مشروط کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے شدت پسندوں کا مؤثر ہتھیار ہے۔ زیادہ تر دیسی ساختہ بموں کو بنانے کے لیے امونیم نائٹریٹ یعنی عام کھاد کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مواد پاکستان سے سرحد پار لایا جاتا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے اس بیان پر بھی سخت ردِ عمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی طرف سے ابھی بھی افغانستان میں دراندازی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ آپ سب جانتے ہیں کہ پاک افغان سرحد پر تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار اہلکار تعینات ہیں اور نو سو سے زیادہ چیک پوسٹیں موجود ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصل سوال یہ ہے کہ افغانستان کی طرف سے کیا ہو رہا ہے؟ پاکستان کو سرحد کی دوسری طرف سے ہونے والی خامیوں کےلیے ذمےدار نہیں ٹھرایا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سرحد کو دونوں طرف محفوظ بنانے کی پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کی طرف سے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں۔

اسی بارے میں