متنازع میمو: ’حکومت کی پوزیشن کمزور‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متنازع میمو کیس کے حوالے سے عوام کے خیال میں حکومت کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پہلی مرتبہ فوج اور حکومت ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں اور اس کیس کی وجہ سے پیپلڑ پارٹی کی حکومت حظرے میں پڑگئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی پوزیشن انتہائی کمزور دکھائی دیتی ہے جبکہ دوسری جانب فوج کو بھی بظاہر کسی بڑی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں جس کی وجہ سے اب اس کیس کے فیصلے کے لیے سب کی نظریں سپریم کورٹ پر جمی ہوئی ہیں۔

عوام کا ایک طبقہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے ملک میں ایک نیا بجران پیدا ہوسکتا ہے اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں جہاں کچھ عرصہ سے سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آرہی ہے، پھر سے غیر یقینی کی کیفیت بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی یونیورسٹی کے ایک طالبعلم سید مجتبیٰ حیدر کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی صدارت خطرے میں ہے۔

ایک اور طالبعلم تنویر نے کہا کہ پاکستان کے حالات خراب کرنے کے لیے یہ ایک امریکی سازش ہے۔ ’منصور اعجاز بھی امریکی ہے اور امریکہ کے لیے کام کررہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ فوج اور حکومت میں ناچاقی پیدا ہوجائے اور وہ فائدہ اٹھائے۔‘

دوسری جانب موٹر مکینک سعید اقبال کے خیال میں کھچڑی پکائی گئی اور اب سارا مسئلہ کسی ایک کے گلے ڈال دیا جائے گا۔ ان کا خیال تھا کہ آصف زرداری کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

مال روڈ پر پیدل چلنے والے زیادہ تر افراد کسی میمو کیس کو نہیں جانتے چند ایک نے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اس ملک میں کسی سکینڈل کا کچھ بنا ہے جو اب کچھ ہوجائے گا۔یا پھر یہ کہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں یا یہ کہ کرسی کا چکر ہے جی اور کچھ نہیں ہے۔

غریب طبقے کی اکثریت ممیوتنازعہ سے لاتعلق ہے جنہیں روزی روٹی کی فکر نے میڈیا کی خبروں سے آزاد کررکھا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور محمد منیر کا کہنا ہے کہ وہ صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں اور سواریوں اور سی این جی کے انتظار میں رہتے ہیں۔انہیں کسی میمو کا علم نہیں ہے البتہ ا نہوں نے کہا کہ انہیں اتنا علم ضرور ہے کہ حکومت پریشانی میں ہے۔

ایک نجی ادارے کے سنئیر منیجراقبال قریشی نے کہا کہ صدر آصف زرداری بری طرح پھنس گئے ہیں اور اب فوج انہیں نہیں چھوڑے گی۔

صوبہ سندھ میں متنازع میمو کے حوالے سے سندھ کے وہ شہری علاقے جہاں اردو اور انگریزی میڈیا کا اثر ہے، ان کی رائے ہے کہ یہ پاکستانی فوج کے خلاف سازش ہے جبکہ دیہی علاقے جہاں سندھی میڈیا لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہے وہاں اس سکینڈل کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف ایک اور سازش سمجھا جا رہا ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے متنازع میمو کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر کی ہے اس کے ذریعے وہ پاکستانی فوج کی قربت حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم سندھ میں اس کیس کی حمایت پر کھل کر بات نہیں کرتے۔

اسی بارے میں