میمو کیس، واجد کو فریق بنانے کی استدعا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں نواز شر یف نے ایک متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی ہے جس میں برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو اس مقدمے میں فریق بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس درخواست میں واجد شمس الحسن سے منسلک بیان کو بنیاد بنایا گیا ہے جو انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز کو دیے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ چند پاکستانی حکام کو دو مئی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فوجیوں کی کارروائی کا پہلے سے ہی علم تھا۔ اس کے علاوہ چند حکام کو اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا علم تھا۔

اس درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جب تک متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اُس وقت تک برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو پابند کیا جائے کہ وہ پاکستان میں رہیں۔

ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں سینیئر صحافی شاہیں صہبائی اور عبدالمالک کو بھی عدالت میں بطورمعاون طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس متنازع میمو سے متعلق مذکورہ صحافیوں کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔

اُدھر دوسری جانب اس متنازع میمو کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں جسٹس امیرہانی مسلم کی جگہ جسٹس اطہر سعید کو شامل کیا گیا ہے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اگلے ہفتے چھٹی پر ہیں۔

اُنیس دسمبر سے سپریم کورٹ میں شروع ہونے والی ان درخواستوں کی سماعت کے سلسلے میں سیکورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں اور جس عدالت میں ان درخواستوں کی سماعت ہوگی اُن میں درخواست گُزاروں اُن کے وکلاء اور اس درخواستوں میں بنائے گئے فریق اور اُن کے وکلاء کو جانے کی اجازت ہوگی۔

اسی بارے میں