اورکزئی ایجنسی: سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکیورٹی فورسز اورکزئی ایجنسی کے کئی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں کم سے کم ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

جوابی کاروائی میں اکیس شدت پسندوں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پشاور میں فرنٹیر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح اپر اورکزئی ایجنسی کے علاقے خادیزئی میں مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز نے کی ایک چیک پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئےہیں۔

ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کاروائی کرتے ہوئے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا اور اس دوران اکیس عسکریت پسند مارے گئے۔ تاہم مقامی اور آزاد ذرائع سے شدت پسندوں کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اپر اورکزئی ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے مراکز اور ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ دو تین سالوں سے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کے دعوے کے مطابق ایجنسی کے دو تحصیلیں طالبان تنظیموں سے صاف کردی گئی ہیں تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی بھی علاقہ مکمل طور پر محفوظ نہیں بنایا جاسکا ہے۔

اس آپریشن کی وجہ سے بدستور ہزاروں افراد ہنگو اور کوہاٹ کے علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں