بلوچستان، ہلاکت کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے پسنی میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں ڈاکٹر نسیم بلوچ کی ہلاکت کے خلاف سینچر کو شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے۔

ڈاکٹرنسیم بلوچ کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے بلوچ قوم پرست رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک سازش کے تحت صوبے میں پڑے لکھے طبقے کو قتل کیاجا رہا ہے تاکہ بلوچ قوم کو پسماندہ رکھا جا سکے۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق کوئٹہ سے بارہ سو کلومیٹر دور پسنی شہر میں جمعہ کی شب نامعلوم مسلح افراد نے سول ہسپتال گوادر کے سابق میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹرنسیم بلوچ کو ان کے پرائیویٹ ہسپتال میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرنسیم بلوچ کی ہلاکت کے خلاف سنیچر کو گوادر، جیونی، اورماڑہ اور پسنی میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔

پسنی کے مقامی صحافیوں کے مطابق ڈاکٹرنسیم بلوچ کی میت کوسنیچر کی شام پسنی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

ان کی نمازِجنازہ میں زندگی کے مختلف شعبوں کے تعلق رکھنے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ صوبے میں ایک سازش کےتحت پڑے لکھے طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ قوم کو مذید پسماندہ رکھا جا سکے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے بلوچ قیادت سے مذاکرات کے بارے میں سرداراخترجان مینگل کا کہنا تھا کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے، ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنایا جائے۔

’اگر حکومت بلوچستان کے لوگوں کو عید کے دن ان کے پیاروں کی لاشیں عیدکے تحفے میں نہ دیتی تو آج بلوچستان کے کسی نہ کسی علاقے سے مسخ شدہ لاشیں نہ ملتیں۔‘

جب سردار اختر مینگل سے پوچھا گیا کہ اگرمسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بند ہو جائے تواس صورت میں بلوچ قیادت حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگی تو سابق وزیرِاعلی کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں کیا وہ کسی کے والد، بھائی اور بیٹے نہیں تھے؟

انہوں نے کہا کہ جب تک ان واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں نہیں ملتیں اس وقت تک بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

اسی بارے میں