’صدر زرداری، جنرل کیانی کی ٹیلیفون پر بات کرائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اور بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔

وزیراعظم گیلانی نے سنیچر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’جمعہ کو صدر زرادری کا فون آیا کہ کیا کر رہے ہیں تو اس پر میں نے کہا جنرل کیانی آئے ہوئے ہیں تو صدر زرداری نے کہا کہ انھیں سلام کہے گا تو اس پر جنرل کیانی نے کہا کہ میری بات کروا دیجیے، اور ان دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی مجھے نہیں معلوم۔‘

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق بات چیت میں جنرل کیانی نے صدر سے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے لیے دعا کی۔

’ملاقات میں صدر زرداری اور جنرل کیانی نے اتفاق کیا کہ قومی سلامتی سب سے مقدم ہے۔‘

وزیراعظم کیانی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی عدلیہ کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدلیہ اور فوج جمہوریت کی حامی ہے اور مجھے یقین ہے کہ کوئی ادارہ جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کے حق میں نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ میمو تنازع پر امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے سابق مشیر جنرل جیمز لوگن جونز کے بیان کے بعد اب میمو کے معاملے کو ختم ہو جانا چاہیے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ جمعہ کو وزیراعظم گیلانی اور جنرل کیانی کے مابین ہونے والی ملاقات کے دوران صدر زرداری کا وزیراعظم گیلانی کو ٹیلی فون آیا اور ان کو جنرل کیانی کی موجودگی کے بارے میں بتایا تو اس پر جنرل کیانی اور صدر زرداری کے درمیان بات چیت ہوئی۔

خیال رہے کہ جمعہ کی رات پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران وزیراعظم گیلانی نے میمو تنازع پر تصادم کے حوالے سے افواہوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس رائے کو مسترد کر دیا۔

بیان کے مطابق جنرل کیانی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی جس میں ملک کو درپش چیلنجز کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ’حکومت پاکستان اور اس کے ادارے اپنے آئینی کردار، جمہوری ذمہ داریوں اور پاکستان کے خوشحال مستقبل کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہیں۔‘

وزیراعظم نے مزید کہا کہ میمو ایشو پر معزز عدالت کی حدود کے حوالے سے حکومتی موقف کو اب بھی عدالت سنے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں متنازع میمو کے بارے میں حکومت اور فوجی قیادت کے متضاد موقف کے بعد حکومت اور حزبِ مخالف کے بعض سیاستدان کہتے ہیں کہ یہ جمہوری نظام کے لیے بظاہر خطرے کی گھنٹی ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم اور فوجی سربراہ جنرل کیانی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فوج کے سربراہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے معزز عدالت کے نوٹس پر جوابات ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت قواعد و ضوابط کے مطابق جمع کرائے گئے ہیں اور اس کو فوج اور حکومت کے مابین تعطل کے غلط معنی نہ پہنائے جائیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں متنازع میمو کے مقدمے میں بری فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے اپنے جوابات داخل کردیے ہیں تاہم صدرِ پاکستان نے کی جانب سے ہنوز جواب داخل نہیں کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی متنازع میمو کے معاملے کی تحقیقات جاری رکھے تاکہ پارلیمنٹ جسے آئین کے تحت بالادستی حاصل ہے، وہی اس معاملے میں اگر ضرورت ہو تو مناسب کارروائی کرے۔

دو مئی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد حسین حقانی سے منسوب امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے گئے متنازع میمو میں پاکستانی افواج کو جمہوری حکومت کے خلاف ممکنہ کارروائی سے روکنے کے لیے مدد طلب کی گئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کی طرف سے متنازع میمو کے خلاف دائر کی جانے والی اس درخواست پر سپریم کورٹ نے یکم دسمبر کو صدر آصف علی زرداری، وفاق، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا، حسین حقانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو نوٹس جاری کیے تھے۔

اسی بارے میں