پیلی لکیر: جلاوطنوں کی کہانیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اشرف شاد تقریبِ رونمائی کے صدر فرہاد زیادی کو اپنے افسانوں کا مجموعہ پیش کر رہے ہیں ان کے ساتھ انور سجاداور محمود شام

تین ناولوں اور شاعری کے دو مجموعوں کے بعد اشرف شاد کے افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا ہے اور رائے یہ ہے کہ ان کے ناولوں کی خصوصیات افسانوں میں بھی در آئی ہیں۔

کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کی جانب سے ہونے والی اس تقریب میں فرہاد زیدی، انور سجاد، محمود شام، شکیل عادل زادہ اور اخلاق احمد نے اظہارِ خیال کیا جب کہ میزبان نقاش کاظمی تھے۔

تقریب کے صدر ممتاز صحافی، دانشور اور کراچی آرٹس کونسل کے نائب صدر فرہاد زیدی نے اشرف شاد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اشرف شاد کو ذاتی طور پر جاننے کا موقع نہیں ملا لیکن وہ انہیں ان کی تحریروں سے جانتے ہیں۔

ان کے مطابق اپنے ہی زمانے کے سیاسی حالات کو فکشن میں منتقل کرنا اردو میں اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن اشرف شاد نے اسے اونچے درجے پر پہنچا دیا ہے۔

ان سے پہلے اردو کے ممتاز جدید افسانہ نگار اور ناول نویس انور سجاد نے جو تقریب کے خصوصی مہمان تھے کہا کہ اشرف شاد کے افسانوں اور ناولوں کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہو سکتی ہیں وہ تمام کی تمام ان سے پہلے آنے والے مقرر کر چکے ہیں اور وہ ان سب باتوں کو دہرانے کی بجائے مناسب سمجھتے ہیں کہ ان تمام باتوں کی تصدیق کر دیں۔

صحافی اور شاعر محمود شام نے بتایا کہ انہوں جب ہفت روزہ معیار شروع کیا تو اشرف شاد ان کی ٹیم میں شامل تھے اور معیار کے معیاری ہونے میں ان کا بھی ہاتھ تھا اگر سیاسی اور دوسرے حالات کی وجہ سے معیار بند نہ ہو جاتا تو اشرف شاد آج افسانہ نگار اور ناول نویس نہ ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی ناول آج کل بہت مقبول ہیں اور اشرف شاد علامتوں کی بجائے حقیقتوں سے زیادہ قریب رہتے ہیں۔

محمود شام نے کہا کہ اشرف شاد کے ناولوں میں جو خصوصیات ہیں وہ ان کی کہانیوں میں بھی در آئی ہیں۔

شکیل عادل زادہ نے کہا کہ اب وہ افسانہ نگار ختم ہو گئے ہیں جو ساٹھ اور ستر کی دہائی تک اردو میں تھے بلکہ دنیا بھر میں فکشن کا قحط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشرف شاد صحافی کیسے ہیں مجھے علم نہیں لیکن ان کی کہانیوں اور ناولوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں یہی کام کرنا چاہیے تھا۔

افسانہ نگار اور صحافی اخلاق احمد نے واحد مقرر تھے جنہوں نے اشرف شاد کے افسانوں پر سب سے زیادہ بات کی۔

انہوں نے کہا کہ اشرف شاد نے سیاسی بے اعتدالیوں اور بد عنوانیوں کے بارے میں لکھا ہے۔ ان ساری بے اعتدالیوں کے بارے میں جو سکندر مرزا، ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیا الحق سے زرداری تک آتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرف شاد ریڈیکل لیفٹ کے آدمی ہیں یہ الگ بات ہے کہ ریڈیکل لیفٹ اب کہاں ہے۔

اخلاق احمد کا کہنا تھا کہ اشرف شاد کہانی لکھتے ہوئے کہانی کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔ وہ کہانی کے بنیادی فارمولے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں فینٹسی بھی ہے لیکن وہ اس کا استعمال ایسے کرتے ہیں کہ فینٹسی بھی قابلِ یقین ہو جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر اچھے ادیب کی طرح وہ لفظ کی قوت سے واقف ہیں اور وہ لفظوں کو ذمہ داری سے استعمال کرتے ہیں احتیاط سے نہیں۔ یہ دونوں کام الگ الگ ہیں فکشن وہ کام ہے جو نہ تو احتیاط سے ہو سکتا اور نہ ہی ذمہ داری کے بغیر۔

اشرف شاد نے آخر میں بتایا کے انہوں نے تمام تر تحقیق اور تیاری کے بعد ’جج صاحب‘ لکھنے کا ارداہ اس لیے ترک کر دیا کہ اس دوران عدلیہ کی بحالی کی تحریک چل پڑی اور انہیں لگا کہ ناول آیا تو لوگ اس میں موجودہ ججوں کو تلاش کرنے لگیں گے۔ اسی لیے انہوں نے اس وقت کو کہانیاں لکھنے کے لیے استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیلی لکیر میں شامل ان کی کہانیاں ان لوگوں کے مسائل کے بارے میں ہیں جو وطن سے دور رہتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی کہانیوں سے اقتباسات بھی سنائے۔