فوج اور حکومت، آمنے سامنے یا ساتھ ساتھ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ملاقات کے بعد حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ متنازع میمو کے معاملے پر فوج اور حکومت کے درمیان کوئی محاز آرائی نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ تاثر ایک ایسے مرحلے پر دیا جارہا ہے جب متنازع میمو کے معاملے پر سپریم کورٹ میں پیش کردہ حکومت اور فوج کے موقف میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ میں پاکستانی فوج اور اس کی طاقتور خفیہ ایجنسی کے سربراہان یعنی جنرل اشفاق پرویز کیانی اور لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے جو بیانات جمع کرائے ہیں ان کا لب لباب یہ ہے کہ یہ میمو ایک حقیقت ہے اور عدالت کو اس کی تحقیقات کرانی چاہیے۔

وفاقی حکومت نے عدالت میں اس کے بالکل متضاد موقف اختیار کیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق میمو حقیقت نہیں، ایک فسانہ ہے اور پارلیمنٹ جو کہ آئین کے تحت بالادست ترین ادارہ ہے، اسے ہی اس کا حتمی فیصلہ کرنا چاہیے جبکہ عدالت کو متنازع میمو کے بارے میں درخواستوں کو رد کردینا چاہیے۔

لیکن جمعہ کی رات اسلام آباد میں وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کے بعد وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہوں نے سپریم کورٹ میں جو جوابات داخل کرائے ہیں وہ عدالتی نوٹس پر بھیجے گئے اور اسے حکومت اور فوج کے درمیان محاذ آرائی کا غلط رنگ نہیں دینا چاہیے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل حمید گل کہتے ہیں ’میرا خیال ہے کہ (فوج اور سول حکومت) ایک ہی صف میں ہیں کیوں کہ افغانستان میں اینڈ گیم شروع ہوچکا ہے، میمو کی جو بھی حقیقت ہو لیکن اس کے پیچھے یہ بات بھی تھی کہ فوج اور سول حکومت کے درمیان نفاق کا بیج بویا جائے، خواہ یہ ( میمو کا معاملہ) حقیقت ہی کیوں نہ ہو لیکن دس مئی کی لکھی ہوئی چیز، کیوں چھ ماہ بعد منظر عام پر آئی ہے، یہ پہلو بھی نظر میں رکھا جانا چاہیے۔‘

حمید گل نے کہا کہ ہم اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں کہ آپس میں محاز آرائی کی کیفیت ہو، اسمبلی ختم ہوجائے، پاکستان غیر مستحکم ہو اور میمو کے معاملے کو منظر عام پر لانے کے مقاصد پورے ہوجائیں۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا کہ فوجی قیادت اور حکومت محتاط طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور صورت حال پر قابو پالیا جائے گا۔

اگر حکومت اور فوج ایک ہی صف میں ہیں تو پھر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کی طرف سے سپریم کورٹ میں جو جمع کرائے گئے ہیں، ان بیانات کے کیا معنی ہیں؟

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل نے کہا کہ فوج کے سربراہ جنرل کیانی کی طرف سے عدالت میں بیان جمع کرانا درست قدم ہے۔ ’اگر ( متنازع میمو) کا معاملہ جھوٹا ہے تو بھی اس کو حتمی نتیجے پر پہنچنا چاہیے اور حقیقت پر مبنی ہے تب بھی اس کو حتمی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔‘

حمید گل نے مزید کہا کہ اگر یہ جھوٹ پر مبنی ہے تو پھر (آئی ایس آئی کے سربراہ) شجاع پاشا نےاپنی نااہلی کو عیاں کیا ہے یا وہ جال میں پھنس گئے ہیں۔ لیکن انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کس کے جال میں پھنسے ہیں۔

بظاہر فوج ہی میمو کے معاملے میں دلچسپی لے رہی ہے تو کہیں ایسا تو نہیں کہا جائےگا کہ فوج ہی کسی کے جال میں پھنس گئی ہے۔ جنرل حمید گل نے کہا ’فوج اور سول حکومت دونوں ہی ٹریپ ہورہے ہیں لیکن اس صورت حال کو مناسب طریقے سے ہینڈل کرنا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر محمد سعد سمجھتے ہیں کہ میمو کے معاملے پر حکومت اور فوجی قیادت کے موقف میں کھلا تضاد ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ فوج یہ نہیں چاہےگی کہ ملک میں سیاسی حالات کو مزید خراب کیا جائے۔

انھوں نے کہا ’ آرمی چیف اور وزیر اعظم کی ملاقات اور اس کے بعد جو بیان آیا اس کا یہ ہی مقصد ہے کہ قیاس آرائیاں بند ہوں اور سپریم کورٹ کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔‘

اس معاملے پر پہلے ہی سوال کیا جاتا ہے کہ مبینہ میموجس کی تحقیقات پارلیمینٹ اور سپریم کورٹ دونوں ہی بیک وقت کررہے ہیں، ان میں فوقیت کسے حاصل ہے، آئین اور قانون بنانے والی پارلیمنٹ کو یا آئین اور قانون کی تشریح کرنے والی سپریم کورٹ کو؟

لیکن میمو کے بارے میں حکومت اور فوجی قیادت کے موقف میں اختلاف نے ایک اور سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا سپریم کورٹ وفاقی حکومت کے موقف کو فوقیت دیتی ہے یا آئین کے مطابق وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے یعنی پاکستانی فوج کے موقف کو۔

اسی بارے میں