ایبٹ آباد کمیشن:حسین حقانی کو طلب کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ fyabbottabad

القاعدہ کے سربراہ اوسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے اعلیٰ سطح کے حکومتی کمیشن نے پاکستان کے واشنگٹن میں سابق سفیر حسین حقانی کو منگل کے روز طلب کر لیا ہے۔

کمیشن کا اجلاس سربراہ جسٹس جاوید اقبال کی صدارت میں کابینہ ڈویژن میں ہوا۔

اس سے قبل گزشتہ مہینے کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایبٹ آباد میں دو مئی کو پیش آنے والے واقعات کے بارے میں شہادتیں قلم بند کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ تاہم ان واقعات پر ملک کے سیاسی، فوجی، سفارتی اور دانشور طبقے کی رائے جاننے کے لیے انہیں مدعو کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ کمیشن کا آج کا اجلاس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔

کمیشن کی آج کی کارروائی میں عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل آغا محمد عمر فاروق اور پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے چیرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا تفصیلی انٹرویو کیا گیا۔

کمیشن مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد اپنی رپورٹ تحریر کرنے کا کام شروع کرے گا۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایک ہفتے پہلے ایک اخباری کانفرنس میں امید ظاہر کی تھی کہ اس واقعہ کے متعلق شواہد روان ماہ کے آخر تک اکھٹے کر لیے جائیں گے اور اس کے بعد حتمی رپورٹ جلد از جلد حکومت کو پیش کر دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس کے بعد حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ اس رپورٹ کو منظرِعام پر لاتی ہے کہ نہیں۔

جسٹس ریٹارئرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں امریکی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شخص یعنی اوساما بن لادن کی شناخت کی تصدیق کرنا قبل از وقت ہوگا۔

دو مئی کو امریکی سیکورٹی فورسز نے ایبٹ آباد میں اُوسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس واقعہ سے متعلق بائیس جون کو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں