پاک ایران سرحد تین ماہ بعد کھل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران نے مستونگ میں شیعہ زائرین پر حملے کے بعد سرحد بند کر دی تھی

ایران کی جانب سے سانحۂ مستونگ کے بعد احتجاجاً بند کی گئی ایران اور پاکستان کی سرحد تین ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ کھل گئی ہے۔

واضح رہے کہ سانحہ مستونگ میں ایران جانے والے چھبیس زائرین ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ایران نے احتجاجاً سرحد کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایران اور پاکستان کے سرحدی حکام کے درمیان اتوار کو تفتان سرحد پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں تفتان سرحد پرتعینات پاک ایران سرحدی حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس کے بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ سرحد کو تجارت اور آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا۔

اجلاس کے بارے میں اسسٹنٹ کمشنر تفتان خالق داد بڑیچ نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد بند ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنرچاغی نے کئی بار ایرانی سرحدی حکام کو خطوط لکھے اور نتیجے میں آج سرحد کو دوبارہ کھول دیا گیا۔

ایران اور پاکستان کے درمیان تفتان سرحد پر روزانہ پانچ ہزار مزدور تجارتی سامان سرحد کے ایک پار سے دوسرے پار لے جاتے ہیں لیکن گزشتہ تین ماہ سے سرحد بند ہونے کے باعث ان مزدوروں کو بے روزگاری کا سامنا تھا۔

نوشکی سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور قدرت اللہ بادینی نے بتایا کہ سرحد تو کھل گئی ہے لیکن باقاعدہ تجارت ابھی تک شروع نہیں ہوئی۔ انہوں نے سرحد کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھرسرحد پرتجارتی سرگرمیاں شروع ہونے سے مزدوروں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔

دوسری جانب سرحد کی مسلسل بندش کی وجہ سے تفتان اور ایران سے بلوچستان کے دیگر سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان سرحدی علاقوں میں زیادہ تر اشیاء ضرورت ایران سے انتہائی سستی قیمت پر پاکستان آتی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال بائیس ستمبر کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کوئٹہ سے ایران جانے والی ایک بس کے مسافروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ہلاک کونے والوں میں چھبیس زائرین شامل تھے جن کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔

اس واقعے کے بعدایران نے تفتان کے مقام پرنہ صرف سرحد بند کردیا تھا بلکہ پاکستان سے سخت احتجاج کرتے ہوئے زائرین کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

تاہم صوبائی حکومت نے ایران جانے والے زائرین کو کوئٹہ سے تفتان اور واپس آنے کے لیے سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب یہ قافلے فرنٹیئر کور کی نگرانی میں آتے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں