’میمو گیٹ یا شیخ چلی کا پلاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار کی صدر بھی رہی ہیں

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے خبردار کیا ہے کہ متنازع میمو کے معاملے کو طول نہ دیا جائے وگرنہ اس سے بہت سے دوسرے سوالات بھی جنم لیں گے جن میں سویلین حکومت کو گرانے پر بغاوت کے مقدمہ کی بات بھی ہو سکتی ہے۔

متنازع میمو کی سماعت کے بعد پیر کو عدالت کے باہر اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصور اعجاز نے اپنے حلف نامے میں تحریر کیا ہے کہ وہ ایک امریکی شہری ہیں اور ان کی اول و آخر وفاداریاں امریکہ کے ساتھ ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’ہم ایسے شخص کی بات کو جو خود تحریر کرتا ہے کہ اس کی وفاداریاں امریکہ کے ساتھ ہیں، خوب اچھال رہے ہیں جیسے کہ وہ پاکستان کا بہت وفادار ہو۔‘

انہوں نے منصور اعجاز کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ وہ کہتا ہے کہ بے شک میری وفاداریاں امریکہ کے ساتھ ہیں۔‘

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’ایسے شحص کی بات پر ہم حکومت گرا رہے ہیں، سفیر کو پھینکے رہے ہیں اور ان پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔‘

انھوں نے اس ساری گفتگو میں ایک مرتبہ بھی منصور اعجاز کا نام نہیں لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شخص لکھتا ہے وہ حسین حقانی سے ذاتی طور پر ملا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ حسین حقانی سے ملا ہی نہیں تو انھیں اتنی بڑی ذمہ داری کیسے سونپ دی۔

آئی ایس آئی کی طرف سے اس سلسلے میں کی گئی تحقیقات پر بھی عاصمہ جہانگیر نے سوال اٹھایا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کس کے کہنے اور کسی اختیار پر تحقیقات کرنے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کیا سویلین حکومت کو گرانا بغاوت کے ضمرے میں نہیں آتا۔

متنازع میمو کے مندرجات پر عاصمہ جہانگیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی صحیح الدماغ شحص ایسا میمو نہیں لکھتا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان کے حالات کے تناظر میں ایسا میمو لکھنے والا شخص ’شیخ چلی‘ ہی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہ وہ اس میمو گیٹ کو ’شیخ چلی کا پلاؤ‘ کہتی ہیں۔