’مارشل لاء لگے گا نہ غیر جمہوری نظام ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ ایوان کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ملک میں کبھی کوئی مارشل لا لگے گا اور نہ کوئی غیر جمہوری عمل ہوگا اور نا کوئی نگران یا ٹیکنو کریٹ حکومت ہوگی۔

یہ بات انہوں نے پیر کو شام گئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی جانب سے جمہوریت کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بیانات کو سراہا اور اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ ’جو کچھ ہونا نہیں تو اس کے لیے ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ اس قسم کا موقع فراہم نا کریں جس سے خدا نا خواسطہ اس ملک میں جمہوریت پٹڑی سے اتر جائے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں اگر کوئی نظام ہوگا تو وہ پارلیمانی نظام ہوگا۔ ان کے بقول جمہوریت کے لیے کارکنوں نے جان کی قربانیاں دی ہیں اور سیاسی رہنماؤں نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب جمہوریت نہیں ہوتی تو تمام جماعتیں جمہوریت کی بحالی کی بات کرتی ہیں لیکن جب ہوتی ہے اُسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

قبل ازیں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اس اسمبلی کا کیا کریں جو کمزور ہوگئی ہے؟ کیا یہ ملٹری سٹیٹ ہے۔۔ کیا نظام فوج کی مرضی پر ہے۔۔آرمی چیف ملاقات کے لیے آئیں گے تو معاملہ ٹھیک ہوگا۔۔ کیا حکومت اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ وزیراعظم کو آرمی چیف سے ملاقات کرنی پڑی؟۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کہتے ہیں کہ میمو حقیقت ہے، منصور اعجاز کے بارے میں آئی ایس آئی چیف کہتے ہیں کہ جو ثبوت ملے ہیں وہ کافی ہیں۔ لیکن وزیراعظم جب میمو کو ‘نان ایشو‘ کہتے ہیں تو اس پر انہیں اعتراض ہے۔ جس پر ایوان میں بعض اراکین نے نعرے لگائے کہ ‘جو امریکہ کا یار ہے وہ غدار ہے’۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میمو کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایسے میں چند ریٹائرڈ جرنیلوں کے بیان پر وزیراعظم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو طاقت آرمی چیف کی ملاقات، آئی ایس آئی اور امریکی جنرل کے بیان سے نہیں ملے گی، لیکن اس ایوان سے ملے گی۔ ’ہم پارلیمان اور عوام کو لکھ کر دیتے ہیں کہ اگر کوئی غیر جمہوری قوت نظام کے خلاف آئے گی تو ہم ان کے خلاف کھڑے ہوں گے۔‘

وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے کہا کہ منصور اعجاز اور جنرل جونز دونوں امریکی ہیں اور دونوں کے میمو کے بارے میں بیان آئے ہیں، ایک کا بیان درست اور دوسرے کا غلط کیسے ہوگیا؟۔ ’خود مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین میمو کو ایک کاغذ کا ٹکڑا قرار دیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کینیڈا سے ایک شخص خط لکھتا ہے تو عدالت اُسے بھی میمو کیس کا حصہ بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی ڈکٹیٹر کے دور میں کوئی بول نہیں سکتا تھا لیکن اب معاملات کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے راولپنڈی کے رکن محمد حنیف عباسی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ گھریلوں صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کے حکومتی اعلان کے باوجود بھی راولپنڈی میں گیس کی قلت ہے اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو وہ آئندہ جمعہ کو شہر میں ٹریفک بلاک کر دیں گے۔

جسں کے جواب میں سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ یہ گیس کی قلت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ پریشر کم ہے۔ ان کے بقول لاہور ہائی کورٹ نے گیس سٹیشن کی جزوی بندش ختم کردی ہے اس لیے پریشر کم ہے اور حکومت جلد عدالت سے رجوع کرے گی اور مسئلہ حل ہوگا۔