حمید اختر: آخری آدمی جو چلا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد علی صدیقی حمید اختر کے بارے میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔ سٹیج پر زاہدہ حنا، محمود شام اور کامریڈ سوبھو گیان چندانی

کراچی پریس کلب میں صحافیوں اور ادیبوں نے بزرگ صحافی، کالم نگار اور ادیب حمید اختر کو یاد کیا اور انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

انجمن ترقی پسند مصنفین، ارتقا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تعاون سے سنیچر کو ہونے والے تعزیتی اجلاس کی صدارت کامریڈ سوبھو چند گیان چندانی نے کی، جب کہ اس میں ممتاز نقاد محمد علی صدیقی، سینئر صحافی اور شاعر محمود شام، ادیب اور کالم نگار زاہدہ حنا، لندن سے آنے والے مہمان مشتاق لاشاری، اداکارہ بشریٰ انصاری اور مرحوم کی دختر صبا حمید نے اظہار خیال کیا۔

کامریڈ سوبھو گیان نے کہا کہ کچھ لوگ دنیا میں جینے کے لیے آتے ہیں اور کچھ لوگ اس دنیا کو جینے کے قابل بنانے کے لیے، ہمارا راستہ دنیا کو جینے کے قابل بنانے والوں کا راستہ ہے اور راستہ یہی ایک ہے۔ یہ راستہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا ہے، حمید اختر اسی ایک راستے کا مسافر تھا۔

انہوں نے کہا کہ حمید اختر مر گیا ہے، سوبھو بھی مر جائے گا لیکن اس راستے پر چلنے والے نئے لوگ آ جائیں گے۔ سوبھو اکیلا نہیں ہے اس کا نظریہ اس کا ساتھی ہے جو کبھی نہیں مرے گا اور یہی راستہ انقلاب لائے گا۔

محمد علی صدیقی کا کہنا تھا کہ اب ترقی پسندوں میں کوئی بھی ایسا نہیں رہا جو ان کے لیے ایک سایہ دار درخت ثابت ہو سکے۔ کوئی ایسا جس کا واحد متکلم ایسا ہو جو خود اپنی سند ہو۔

انہوں اس دور کے خالی پن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہی نہیں کہ یہ دور اچھے اور بڑے لوگوں سے خالی ہوتا جا رہا ہے بلکہ ان امکانات سے بھی خالی ہوتا جا رہا ہے جو بڑے لوگوں کو پیدا کرتے ہیں۔ محمد علی صدیقی نے کہا کہ حمید اختر ایک ایسے آدمی تھے جنہیں نام نمود سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حمید اختر کی دختر صبا حمید

انہوں نے حمید اختر کی کالم نگاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کالموں کا اہم پہلو ہمارا سماج ہے اور مستقبل میں جب بھی کوئی پاکستان کے سماج کا تجزیہ کرے گا تو اس کے لیے یہ کالم انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔

حمید اختر کی دختر صبا حمید نے کہا کہ ان کے والد بہت محبت کرنے والے انسان تھے اور وعدوں کی پاسداری کرتے تھے، یہ پاسداری وہ دوسروں سے ہی نہیں کرتے تھے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی جو وعدہ کرتے تھے اس کی بھی پاسداری کرتے تھے۔

وہ تئیس سال کے تھے جب پاکستان آئے اور انہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا۔ قیدِ تنہائی میں ڈالا گیا، اسی قیدِ تنہائی نے انہیں قیدیوں کے دُکھوں اور دشواریوں سے روشناس کرایا جس کے بعد وہ ساری عمر قیدیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تنگی اکثر ہماری مہمان رہتی تھی لیکن ہمارا گھر اس پر کبھی تنگ نہیں ہوا ہم اس کے ساتھ خوش رہتے تھے۔ ہمارے والد ہم سے بھی بہت محبت کرتے تھے۔ وہ عورتوں کے حقوق پر بے پناہ یقین رکھتے تھے اور انہی کی وجہ سے ہمیں زندگی گزارنے کا ایک نیا ڈھنگ میسر آیا۔

حمید اختر کے دیرنہ دوست احمد بشیر کی صاحبزادی اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا کہ حمید اختر ان کے والد کے دیرینہ دوستوں میں آخری آدمی تھے جو اب جا چکے ہیں۔