درخواست گزار، فریق بیانِ حلفی جمع کرائیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر سوالات اُٹھنے شروع ہو جائیں تو پھر اس سے بڑا کیس کوئی نہیں ہوتا‘

سپریم کورٹ نے متنازع میمو سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں اور ان درخواستوں میں بنائے گئے فریقوں کو بائیس دسمبر تک اپنے بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم سپریم کورٹ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے متنازع میمو کیس کی سماعت کے دوران دیے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کہ صدر کی جانب سے نہ تو جواب آیا اور نہ ہی تردید آئی ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ابھی تک صدر کی جانب سے ان درخواستوں پر کوئی جواب عدالت میں جمع نہیں کروایا گیا اور قانون کے مطابق اگر کسی واقعہ سے متعلق کوئی تردید نہ کی جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر سوالات اُٹھنے شروع ہو جائیں تو پھر اس سے بڑا کیس کوئی نہیں ہوتا۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ، سابق سفیر حسین حقانی اور منصور اعجاز کے جواب پر حلف نامہ جمع کرائے کہ ان جوابات میں مذکورہ افراد نے موقف اختیار کیا ہے اُس کی شق وار تردید کرے یا تصدیق کرے۔

عدالت نے حسین حقانی اور منصور اعجاز سے بھی اسی طرح کے حلف نامے جمع کرانے کا حکم دیا ہے جس میں انہیں وفاقی حکومت، آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ اور دوسروں کے مؤقف پر شق وار تصدیق یا تردید کرنا ہوگی۔

عدالت نے اس متنازع میمو سے متعلق درخواست گُزاروں سے کہا ہے کہ چونکہ ان درخواستوں کے جوابات کی مد میں مختلف نقطہ نظر اپنایا گیا ہے اس لیے وہ بھی بیان حلفی جمع کروائیں کہ آیایہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے اور کیا عدالت اس معاملے کے حقائق کو جاننے کے لیے آئین کی شق ایک سو چوراسی کے سب سیکشن تین کے تحت ان درخواستوں کو سُن سکتی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے سر براہ میاں نواز شریف اور دیگر افراد کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں میں وفاق کے علاوہ، صدر زرداری، جنرل کیانی، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا، سابق سفیر حیسن حقانی، سیکرٹری وزارت خارجہ اور امریکی شہری منصور اعجاز کو فریق بنایا گیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق سے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم سے ہدایات لے کر عدالت میں آئندہ سماعت پر جواب جمع کروائیں کہ یکم دسمبر کو اس میمو سے متعلق عدالتی حکم کی وفاقی وزراء اور پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں جو مذاق اُڑایا گیا کیا وہ آیا سرکاری سرپرستی میں ہوا۔

سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے پیپلز پارٹی کے رہنماوں کی پریس کانفرنس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت کے استفسار پر اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے بتایا کہ وہ چونکہ وزیر اعظم سے ہدایات لیتے ہیں اس لیے ابھی اُن سے رابطہ نہیں ہوا اور وہ رابطہ کرکے عدالت کو آگاہ کریں گے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے یہ بھی کہا کہ اگر یہ پریس کانفرنس سرکاری طور پر منعقد نہیں کی گئی اور وفاق عدلیہ کے احکامات کا مذاق نہیں اُڑانا چاہتی تو پھر سینٹر بابر اعوان سمیت دیگر افراد کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے متنازع میمو سے متعلق سے عبوری حکم نامے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان، سید خورشید شاہ کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ اور بابر اعوان نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کی تھی۔ وفاقی وزیر قانون مولا بخش چانڈیو نے بھی اس عدالتی حکمنامے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے جواب میں بھی اس میمو سے متعلق کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے کمیشن بنایا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اس شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی طرف سے جو جواب جمع کروایا گیا ہے اُس میں بائیس نومبر کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کا ذکر کیا گیا ہے جس میں صدر، وزیر اعظم ، ڈی جی آئی ایس آئی اور حسین حقانی بھی موجود تھے اور اس اجلاس میں حسین حقانی سے استعفیٰ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے جمع کروائے گیے جواب میں اس کاجلاس کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت بائیس دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں