’شرح نمو صرف دو اعشاریہ چار فیصد‘

Image caption سیلاب کی وجہ سے تقریباً چھیاسٹھ لاکھ افراد تین ماہ تک بےروزگار رہے: سٹیٹ بینک

پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال دو ہزار دس دو ہزار گیارہ میں پاکستان کی معیشت کی شرح نمو صرف دو اعشاریہ چارفیصد رہی جبکہ اصل ہدف چار اعشاریہ پانچ فیصد تھا۔

توانائی کے بحران کی وجہ سے پیداواری شعبہ بھی شدید متاثر ہوا اور صنعتی پیداوار منفی اعشاریہ ایک فیصد رہی جبکہ سروسز سیکٹر میں مجموعی طور پر چار اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا جو ہدف سے کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران سیلاب کی وجہ سے ملک کا ایک تہائی علاقہ زیر آب رہا جس سے تقریباً چھیاسٹھ لاکھ افراد تین ماہ تک بےروزگار رہے اوراس سےمعیشت کو دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بجٹ کا خسارہ بھی چھ اعشاریہ چھ فیصد ہے جب کہ ہدف چار فیصد تھا۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصلاحاتی جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ اور زرعی آمدنی پر ٹیکس، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات اور ٹیکسز میں دی جانے مختلف قسم کی چھوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کے پروگرامز پر یا تو عمل نہیں ہوا یا یہ شروع ہی نہیں کیےجاسکے۔

رپورٹ کےمطابق مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت نے مالی سال دو ہزار دس کے مقابلے میں مالی سال دو ہزار گیارہ میں اپنے اخراجات میں ایک اعشاریہ چھ فیصد کمی کی ہے۔

بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کُل حکومتی آمدنی کا بتیس اعشاریہ آٹھ فیصد ہے، جس سے حکومت کو معاشی ترقی میں اضافہ کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔

تاہم یورو زون کے معاشی بحران کے باوجود پاکستان کا بیرونی قرضے میں ہونے والے اضافے کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی تھی۔ مالی سال دوہزار گیارہ میں پاکستان کی ملنے والی زیادہ تر امداد بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے خاتمے کے بعد حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ داخلی طور پر وسائل میں اضافے کی کوشش کرے۔

مالی سال دوہزار گیارہ میں حکومت نے گیارہ سو ارب روپے کا قرضہ لیا جو مالی خسارے کا اکیانوے فیصد ہے۔

حکومت کی جانب سے پُرکشش شرح سود پر قرضے لینےکی وجہ سےنجی کاروبار کے لیےقرض دینےمیں بینکوں نےکوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اشیاء خوراک کی قیمتوں میں بھی مالی سال دوہزار گیارہ کے پہلےچھ ماہ میں انیس فیصد اضافہ ہوا۔

توانائی کےشعبے پر رپورٹ میں ایک پورا باب ہے جس کے مطابق توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیےحکومت نےجن تین طریقہ کار کو اپنایا تھا ان کے باوجود اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

آئندہ مالی سال کے لیے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ معاشی شرح نمو تین سے چار فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ بجٹ کا خسارہ ساڑھے پانچ سے ساڑھے چھ فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق افراطِ زر کی شرح بھی ساڑھے گیارہ سے ساڑھے بارہ فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں