ایبٹ آباد کمیشن میں حسین حقانی کی پیشی

file photo تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور ہلاکت کی تفتیش کرنے والے اعلیٰ سطحی کمیشن نے، امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی سے تفصیلی بات چیت کی ہے۔

ایبٹ آباد کمیشن کی کارروائی کے بارے میں کمیشن کے دفتر سے پیر کو جاری کردہ بیان کے مطابق حسین حقانی نے کمیشن کے سامنے اپنا تحریری بیان پڑھ کر سنایا جس کے بعد ان سے سوال و جواب کا سیشن ہوا۔

بند کمرے کے اس اجلاس کی زیادہ تفصیل تو میڈیا کو جاری نہیں کی گئی لیکن باور کیا جاتا ہے کہ کمیشن کے ارکان نے امریکہ میں سابق سفیر سے امریکی شہریوں کو مروجہ قواعد کے منافی مبینہ طور پر ویزے جاری کرنے کے بارے میں استفسار کیا۔

کمیشن کے سربراہ نے چند روز قبل اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ ان ویزوں کے اجرا کے بارے میں سابق امریکی فوجی سربراہ ایڈمرل مائیک ملن کو بھیجے گئے مراسلے کا تنازعہ سامنے آنے کے بعد مستعفیٰ ہونے والے پاکستانی سفیر حسین حقانی سے وضاحت چاہتے ہیں۔

امریکی شہریوں کو مروجہ اصول سے ہٹ کر ویزے جاری کرنے کی بات سب سے پہلے ایک سینئر فوجی افسر نے کی تھی جنہوں نے دو مئی کے واقعات کے بارے میں صحافیوں کو دی گئی ایک بیک گراؤنڈ بریفنگ میں بتایا تھا کہ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے علم میں لائے بغیر واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے ہزاروں ویزے نامعلوم امریکی شہریوں کو جاری کر دیے تھے جس کی وجہ سے پاکستان میں سیکیورٹی مسائل پیدا ہوئے۔

حسین حقانی مجاز حکام کی منظوری کے بغیر ویزے جاری کرنے کے اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی شہریوں کو تمام ویزے قواعد کے مطابق اور مجاز حکام کی منظوری سے جاری کیے۔

ایبٹ آباد کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیرسربراہی ہونے والے کمیشن کےاجلاس میں پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کے ساتھ پینل مباحثہ بھی کیا گیا۔ اس مباحثے میں جنرل اسد درانی، جنرل احسان الحق، جنرل جاوید اشرف قاضی اور جنرل نسیم رانا شریک ہوئے۔

یاد رہے کہ ایبٹ آباد کمیشن نے دو مئی کے واقعات کی تفتیش کے پہلے مرحلے میں گواہوں کے بیانات اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد دوسرے مرحلے میں مختلف طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں کے ساتھ مباحثوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

کمیشن کے ارکان اس سلسلے میں چیدہ سیاستدانوں، آئینی ماہرین، دانشوروں اور فوجی سربراہان سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں