’صرف 45 مسافروں کےلواحقین کو معاوضہ ملا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پائلٹ کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ نو فلائی زون میں پرواز کر رہا ہے

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں حادثے کا شکار ہونے والی نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو کے مسافر بردار طیارے کے تباہ ہونے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق طیارہ پائلٹ کی غلطی کے باعث حادثے کا شکار ہوا تھا۔

جولائی دو ہزار دس میں ہونے والے اس حادثے میں ایک سو چھیالیس مسافر اور عملے کے چھ ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔

منگل کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر اور سیفٹی اینڈ انکوائری کمیٹی کے سربراہ خواجہ مجید نے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس فصیح الدین پر مشتمل دو رکنی بیچ کے سامنے پیش کی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ طیارہ پائلٹ کی غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہوا اور ڈیڑھ سو کے قریب قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاز کی روانگی سے قبل پائلٹ کو بتایا گیا تھا کہ موسم خراب ہے لہذا ایسے حالات میں اڑان ٹھیک نہیں جبکہ اس سے قبل دو جہاز موسم کی خرابی کے باعث ایئر پورٹ سے پرواز نہیں کر سکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حادثے سے چند منٹ قبل پائلٹ کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ نو فلائی زون میں پرواز کر رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حادثے میں مرنے والے کل ایک سو باون مسافروں میں سے اب تک صرف پینتالیس افراد کو معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس موقع پر حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کو معاوضہ کی عدم ادائیگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ایئر بلیو انتظامیہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو سختی سے ہدایت کی کہ مرنے والے مسافروں کے لواحقین کو فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے بصورت دیگر سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ معاوضے کی ادائیگی کے لیے وفاقی جج کی خدمات حاصل کی جائیں جبکہ سول ایوسی ایشن اتھارٹی اور نجی کمپنی کی انتظامیہ مل کر اس عمل کو جلد از جلد مکمل کرے۔

خیال رہے کہ اس فضائی حادثے کی تحقیقات اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر پر مسلم لیگ قاف کی سابق رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کی طرف سے پشاور میں ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی گئی تھی۔

اسی بارے میں