’حکومت قیدیوں کی رہائی کیلیے سنجیدہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطانوی حکومت کو حال ہی میں بگرام میں قید پاکستانی کو پیش کرنے کو کہا گیا ہے

افغانستان میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ بگرام جیل سے پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے وزارت خارجہ کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کررہی ہے اور اس معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کی وکیل سارہ بلال نے بتایا کہ بگرام میں قید سات پاکستانی شہریوں میں سے تین قیدیوں کی رہائی کی امریکی حکام نے منظوری دے دی ہے لیکن حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان قیدیوں کی واپسی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے اب تک وہ پاکستان نہیں پہنچ سکے۔

سارہ بلال کے مطابق لندن کی ایک عدالت نے برطانوی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بگرام میں قید پاکستانی شہری یونس رحمت اللہ کو برطانوی عدالت میں پیش کریں اور اس مقصد کے لیے برطانوی حکومت کو سات دن کی جو مہلت دی گئی تھی وہ کل بدھ کی صبح ختم ہورہی ہے۔

سارہ بلال نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ پاکستانی حکومت کو بھی اپنے شہری کی واپسی کے لیے اقدامات کرے اور ان کے بقول اس مقصد کے لیے ایک درخواست دائر کی جائے کہ یونس رحمت اللہ پاکستانی شہری ہیں اس لیے انہیں واپس کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے کہ پاکستان کی حکومت امریکہ پر اپنے شہری کی واپسی کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم کی درخواست پر بیس اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو حکم دیا تھا کہ وہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس پر جا کر وہاں غیر قانونی طور پر قید سات پاکستانیوں سے بات چیت کریں اور ان کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرے۔

سارہ بلال نے افسوس کا اظہار کیا کہ دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود بگرام میں قید پاکستانیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے دائر درخواست پر کارروائی سولہ جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے وکلا کو جواب دائر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں