دوہری شہریت پر پابندی کا بل اسمبلی میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’سول سرونٹس ایکٹ انیس سو تہتر‘ میں ترمیم کے دو علٰیحدہ بل پیش کیے گئے

پاکستان میں منتخب عوامی عہدوں اور سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے لیے دوہری شہریت رکھنے پر پابندی سے متعلق قوانین میں ترامیم کے بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیے گئے ہیں۔

منگل کو پیش کیے جانے والے دو بل عوامی نمائندگان کے قانون میں ترمیم کے بارے میں پیش کیے گئے جس میں سے ایک بل مسلم لیگ (ن) کی تسنیم صدیقی نے پیش کیا۔

اس بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کے لیے نامزدگی فارم داخل کرتے وقت ہر امیدوار پر لازم ہوگا کہ وہ دوہری شہریت نہ رکھنے اور انتخاب جیتنے کے بعد بھی کسی ملک کی دوہری شہریت حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنے کا حلفی بیان داخل کرے۔

اس ترمیمی بل میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر کسی امیدوار نے نامزدگی فارم داخل کرانے کے وقت سے پہلے مسلسل تین سال پاکستان میں قیام نہیں کیا ہوگا تو وہ الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہوگا۔

عوامی نمائندگان کے ایکٹ میں ترمیم کا ایک اور بل پیلز پارٹی کے سید ناصر علی شاہ نے پیش کیا ہے۔ جس میں قومی اسمبلی کے انتخابی اخراجات کی حد پندرہ لاکھ روپے سے کم کر کے ایک لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے اخراجات کی حد دس لاکھ سے کم کرکے پچاس ہزار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ریٹرننگ افسر پر لازم ہوگا کہ وہ ہر حلقے میں امیدواروں کے انتخابی اخراجات کے بارے میں اپنا تخمینہ لگائے اور رپورٹ پیش کریں۔

ریٹرننگ افسر کے غلط معلومات دینے پر انہیں کم از کم پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ جبکہ امیدوار اگر اس بارے میں غلط معلومات پیش کرے تو انہیں پانچ سے دس برس قید اور دس سے پچاس لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

بل کے مطابق الیکشن ٹریبونل انتخابی اخراجات کے بارے میں کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرے گا اور اسے تیس روز میں فیصلہ دینا ہوگا۔

اس کے علاوہ ’سول سرونٹس ایکٹ انیس سو تہتر‘ میں ترمیم کے دو علٰیحدہ بل پیش کیے گئے۔ ایک بل پیپلز پارٹی کی یاسمین رحمٰن نے پیش کیا جس میں تجویز کیا گیا کہ معذور سرکاری ملازمین کو اپنی یونین کونسل سے باہر تعینات نہیں کیا جاسکے گا۔

جبکہ اس قانون میں ترمیم کا دوسرے بل کا مقصد سول سروسز میں دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی بھرتی پر پابندی عائد کرنا ہے۔ یہ بل بھی مسلم لیگ (ن) کی تسنیم صدیقی نے ہی پیش کیا۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے ملازمین جو پہلے سے ملازمت میں ہیں، وہ اس قانون کے نفاذ کے بعد فوری طور پر کام بند کردیں گے۔

بل کے مطابق اگر کوئی شخص ملازمت کے دوران کسی ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے تو انہیں شہریت ملنے کے دن سے ملازمت ختم تصور ہوگی اور حاصل کردہ تنخواہ اور دیگر مراعات واپس کرنی ہوں گی۔

اس مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو انہیں تین برس تک قید اور جرمانے کی سزا مل سکے گی۔ اس بل کا اطلاق وفاقی، صوبائی، کارپوریشنز اور نیم خود مختار محکموں پر بھی ہوگا۔

تسنیم صدیقی نے اس بل کا مقصد یہ بتایا کہ بعض سول سرونٹس ریٹائرمنٹ کے بعد یا دوران ملازمت لوٹ مار کرنے یا بدعنوانی کے بعد احتسابی عمل سے بچنے کے لیے دوہری شہریت کی بدولت دوسرے ملک چلے جاتے ہیں، لہٰذا ایسے اقدامات کو روکنے کے لیے یہ قانون سازی ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منگل کی کارروائی کے لیے باون نکاتی ایجنڈا تھا لیکن بیشتر اراکین کی غیر حاضری اور عدم دلچسپی کی وجہ سے کارروائی صرف سات نکات پر ہی ہوسکی۔

مسلم لیگ (ن) کی تسنیم صدیقی نے ’پاکستان سٹیزنشپ ایکٹ انیس اکیاون‘ میں ترمیم کا بھی ایک بل پیش کیا۔ جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی کسی ملک میں شہریت حاصل کرے گا ان پر لازم ہوگا کہ وہ اس تاریخ سے تیس روز کے اندر حکومت پاکستان کو مطلع کرے، خلاف ورزی کی صورت میں شہریت کی منسوخی اور سات سال قید بھی ہوگی۔

حمکران پیپلز پارٹی کی جسٹس ریٹائرڈ فخرالنساء کھوکھر نے بھی ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا ایک بل پیش کیا ہے جس میں مردہ خوری یا تذلیل کی غرض سے قبر کھودنے یا اُسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا اور جو بھی ان کی معاونت کرے گا انہیں کم از کم سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں